جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

دونوں کو سمجھا دیں انسان بنیں۔۔جب نواز شریف کی کابینہ کے وزیروں کی آرمی چیف جنرل آصف نواز کے خلاف سازش پکڑی گئی تو تقریب کے دوران آرمی چیف نے انہیں ڈھونڈ کر کیا کہا تھا، یہ وزیر کون تھے؟تہلکہ خیز انکشاف

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چوہدری شجاعت حسین اپنی کتاب ’’سچ تو یہ ہے!‘‘میں پاکستانی سیاست اور ایوان اقتدار میں پیش آنے والے واقعات سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سندھ آپریشن کے دوران کسی محفل میں وفاقی زیر صدیق کانجو، میاں عبدالستار لالیکا اور رانا شاہد سعید میں سے کسی نے کہہ دیا کہ ہم جنرل آصف نواز کو’’جنرل گل حسن‘‘بنا دینگے، یہ بات کسی نہ کسی

طرح جنرل آصف نواز تک بھی جا پہنچی۔ ایک روز ایوان صدر میں کھانا تھا، جنرل آصف نواز اور میں ایک ہی میز پر بیٹھے تھے، اچانک انہوں نے پوچھا کہ یہ صدیق کانجو اور رانا شاہد سعید کہاں بیٹھے ہیں، میں نے پوچھا کیا بات ہے؟کہنے لگے دونوں کو سمجھا دیں انسان بنیں۔ واپسی پر رانا شاہد سے آمنا سامنا ہوا تو جنرل آصف نے کہا کہ میں آپ کو ہی ڈھونڈ رہا تھا اس پر رانا شاہد گھبرا گئے، شام کو میرے پاس آئے اور پوچھا کیا بات تھی، ساری بات بتائی تو مزید پریشان ہو گئے۔ پھر قسم کھا کر کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ میں نے جنرل آصف نواز سے رابطہ کر کے ان کی معافی تلافی کرا دی۔ جنرل آصف نواز کی اچانک موت کے بعد نئے آرمی چیف کی تعینات پر صدر غلام احساق اور نواز شریف میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ چوہدری نثار اور جنرل(ر)عبدالمجید ملک اور سعید مہدی نئے آرمی چیف کا مشورہ دے رہے تھے میں نے کہا کہ آپ ’’میرے تیرے‘‘کے چکر میں نہ پڑیں اور جو سینئر ترین دو جنرل ہیں ان کے نام صدر کو بھجوا دیں۔ بعد میں پتہ چلا صدر نے جنرل وحید کاکڑ کو آرمی چیف بنا دیا جو سنیارٹی لسٹ میں چھٹے یا ساتویں نمبر پر تھے۔چوہدری شجاعت لکھتے ہیں کہ جیل میں شیخ رشید انتہائی دبنگ طریقے سے رہتے تھے اور اکثر جیل انتظامیہ تک سے لڑ پڑتے تھے جبکہ اعجاز الحق ان کے بالکل برعکس تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…