’’عمران نیازی بھاگنے نہیں دونگی تلاشی تو تمہاری ہو گی‘‘گلائی لئی خم ٹھونک کر میدان میں آگئیں

  جمعہ‬‮ 11 اگست‬‮ 2017  |  13:59

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان پر بیہودہ پیغامات بھیجنے کا الزام عائدکر کےپاکستان تحریک انـصـاف سے منحرف ہونیوالی خاتون رہنما عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’عمران نیازی تلاشی دو بھاگ کیوں رہے ہو‘‘۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ حیرت ہوئیآج اخلاقی طورپر کرپٹ شخص مالی کرپشن کی بات کررہا ہے، اگر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہوتا تو آج میرے خلاف عمران نیازی دعویٰ کرتے۔ عمران نیازی نہ سپریم کورٹ جاتے ہیں نہ پارلیمانی کمیٹی میں پیش

ہوتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ اپنا موبائل فارنزک آڈٹ کے لیے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں توپارلیمانی کمیٹی میں اپناموبائل پیش کروں گی، عمران کوبھی اپناموبائل دینا ہوگا، عمران نیازی جھوٹ اور تہمت کی سیاست کر کے قوم کو اپنا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں۔گلالئی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان پر شدید خوف اور گھبراہٹ طاری ہے اور بوکھلاہٹ میں انہوں نے مجھ پر کرپشن کے الزامات لگوائے ہیں تاکہ میری آواز کو خاموش کرایا جا سکے مگر ایسا نہیں ہو گا، چار سال سے انہیں میری کرپشن نظـر نہیں آئی اب کرپشن کے الزام لگا کر خواتین کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ عائشہ گلالئی کے عمران خان پر لگائے جانے والے الزامات کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے الزامات کی تحقیقات کیلئے ایک10رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی ہے جو عائشہ گلالئی کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔ کمیـٹی میں پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے ۔ پارلیمانی کمیـٹی کے قیام کے حوالے سے عمران خان اور ان کی جماعت کی جماعت کی جانب سےمتضاد بیانات سامنے آچکے ہیں جس میں تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیـٹی کو مسترد جبکہ عمران خان نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کو الزامات کی تحقیقات کیلئے بہترین پلیٹ فارم قرار دیا ہے۔تحریک انصـاف اور عمران خان کی جانب سے متضاد بیانات کے بعد صورتحال مزید دلچسپ ہوتی نظر آرہی ہے کیونکہ دوسری جانب عائشہ گلالئی نے پارلیمانی کمیٹی کو نہ صرف قبول کیا ہےبلکہ اپنا موبائل فون بھی کمیـٹی میں پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ عمران خان موبائل فون کمیٹی کے سامنے لانے سے گریزاں نظر آرہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں