اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

سندھ اور وفاقی حکومت کو شرم آنی چاہئے ایک دوسرے کو پش اپ کا چیلنج دینے کی بجائے عوام کی خدمت کا چیلنج دیں

datetime 15  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ)سندھ کے وزیر کھیل محمد بخش مہر کے پش اپس لگانے کا چیلنج پاکستان مسلم لیگ (ن )کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے قبول کرلیا ہے۔پیر کو سندھ کے نوجوان وزیر کھیل محمد بخش مہر نے چیلنج کیا کہ پنجاب کا وزیر کھیل میرا چیلنج قبول کرے اور 50 پش اپس لگا کر دکھائے۔ چیلنج دینے کے بعد محمد بخش مہر نے سوشل میڈیا پر اپنے پش اپس لگانے کی ویڈیو بھی جاری کردی جس کے بعد مسلم لیگ (ن )کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے ان کا چیلنج قبول کیا ۔اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد وزارت پانی و بجلی کے وزیر عابد شیر علی نے بھی سندھ کے وزیر کھیل کے چیلنج کو قبول کیا اور کہا کہ جگہ کا تعین کر لیں پتہ چل جائے گا کس میں کتنا دم ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سیاست میں جسمانی فٹنس سے زیادہ ذہنی فٹنس کی ضرورت ہوتی ہے اگر فٹنس کا یہی معیار ہے تو اس حساب سے وزیراعلیٰ سندھ کو پانچ سو پْش اپس لگانا چاہیءں۔رانا ثناء اللہ نے سندھ کے وزیر کھیل کو ذہنی طور پر ان فٹ قرار دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا رانا ثناء اللہ چیلنج قبول کرنے والے عابد شیر علی کو بھی یہی سمجھتے ہیں۔عوامی حلقوں میں ان چیلنجز پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور یہ بات زبان زد عام ہے کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی گزشتہ تین سالوں سے بجلی کی وزارت میں تو کوئی کارنامہ دکھا نہیں سکے اور بجلی کا شارٹ فال کم ہونے کی بجائے بڑھا ہے ۔ گرمی سے ستائے عوام نے عابد شیر علی پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور ایسے چیلنجز کی بجائے اپنی وزارت پر کچھ توجہ دیں اور اس طاقت کو نئے ڈیموں کی تعمیر میں بروئے کار لائیں۔ عوام کی اکثریت نے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومت کو ایسے چیلنجزکرنے پر شرم آنی چاہئے ۔ عوامی حلقوں نے اس قسم کے چیلنجز کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومت ایک دوسرے کو پش اپ کا چیلنج دینے کی بجائے عوام کی خدمت کا چیلنج دیں۔ یاد رہے بیان بازی ایک طرف لیکن وزراء برائے کھیل کی کارکردگی کا اندازہ ریواولمپکس میں پاکستان کے مختصر ترین سات رکنی دستے کی شرکت سے لگایا جا سکتا ہے،سات رکنی دستے میں بھی تین کھلاڑی بیرون ممالک میں مقیم ہیں اور ان میں سے کسی بھی پاکستانی کھلاڑی نے براہ راست کوالیفائی نہیں کیا بلکہ ان کی انٹری وائلڈ کارڈ یا مخصوص کوٹے کے باعث ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…