سابق گورنر عمر چیمہ کی اہلیہ احاطہ عدالت سے گرفتار

22  جون‬‮  2023

لاہور ، اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی)پنجاب پولیس نے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق گورنر عمر چیمہ کی اہلیہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے عمر چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ اپنے شوہر سے ملنے کیلئے عدالت پہنچیں۔ جیسے ہی وہ کمرہ عدالت سے باہر نکلیں تو پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق عمر چیمہ کی اہلیہ رابعہ سلطان جناح ہاؤس حملے کی تفتیش میں مطلوب ہیں، ان کی جناح ہاؤس پر 9مئی کو حملے کے دوران موجودگی کے شواہد ملے ہیں، جیو فینسنگ کے ذریعے رابعہ سلطان کی9مئی کو جناح ہاؤس میں موجودگی ثابت ہوئی ہے، پولیس رابعہ سلطان کی تلاش میں تھی جنہیں آج گرفتار کر لیا گیا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواستوں کے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بتایا ہے کہ ملٹری کسٹڈی میں 102 افراد ہیں، کوئی بھی خاتون،صحافی یا وکیل ملٹری کسٹڈی میں نہیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کیٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلالیا۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ گزشتہ روز کے حکم نامے میں 3 سوالات مجھ سے پوچھے گئے، اسلام آباد میں کوئی بھی فرد پولیس کی تحویل میں نہیں ہے، 4 افراد کے پی میں زیر حراست ہیں۔اس دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ یہ آپ سویلین کسٹڈی کی بات کررہے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ جی یہ سول کسٹڈی کا ڈیٹا ہے۔اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے اپنی بات جاری رکھی اور بتایا کہ پنجاب میں ایم پی اوکے تحت 41 ، اے ٹی اے کے تحت 141 افراد تحویل میں ہیں۔

پنجاب میں 81 خواتین کو حراست میں لیا گیا تھا،42 کو بری کردیا گیا، اس کے علاوہ سندھ میں کوئی بھی پولیس کی حراست میں نہیں ہے، سندھ میں 172 افراد جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں، سندھ میں 70 افراد کو ضمانت دی گئی ہے اور 117 افراد 3 ایم پی او کے تحت حراست میں ہیں۔منصورعثمان اعوان نے کہاکہ ملٹری کسٹڈی میں 102 افراد ہیں، کوئی بھی خاتون، صحافی یا وکیل ملٹری کسٹڈی میں نہیں، 9 اور 10 مئی واقعات میں کوئی خاتون ملٹری کسٹڈی میں نہیں، کوئی خاتون ملٹری کسٹڈی میں نہیں اس لیے خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہوگا۔چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کیا صحافیوں اور وکلا کیلئے کوئی پالیسی بنائی گئی ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ وفاقی حکومت کامؤقف واضح ہے، 9 اور 10 مئی واقعات پرکسی صحافی یا وکیل کوگرفتارنہیں کیا جائے گا، شناخت پریڈ کی جارہی ہے جو کوئی ملوث نہ ہوا توگرفتاری نہیں ہوگی۔بعدازاں عدالت نے درخواستوں پر سماعت پیر 26 جون کی صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی اور چیف جسٹس نے کہا کہ پیر کو سلمان اکرم راجہ کے دلائل سے سماعت کا آغازکیا جائیگا، ازخود نوٹس لیں گے اور نہ جوڈیشل آرڈرکریں گے تاہم تمام چیزیں نوٹ کررہے ہیں، کوشش ہوگی کہ اس کیس کا نتیجہ منگل تک نکل آئے۔

موضوعات:



کالم



نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے


بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…

چینی ماڈل

میرا جواب تھا ’’مجھے خطرہ ہے اگر آپ کی حکومت…

وہ کون ہو گا؟

عثمان گل عمران خان کے وکلاء کے پینل میں شامل ہیں‘…

جوتے کے ذریعے بوتل کی تلاش

راحت فتح علی خان نامور اور مہنگے ترین گلوکار…

پی آئی اے کوواقعی

گوادر کے پہاڑ پر سنگھار کے نام سے ایک ہائوسنگ…