ہمیں نیشنل ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے، وزیر اعظم

  اتوار‬‮ 14 اگست‬‮ 2022  |  16:28

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے 75ویں یوم آزادی کے موقع پر بحیثیت قوم آج ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، اس کیلئے ہمیں نیشنل ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے، وطن عزیز مقدس امانت اور مشن ہے،مشن کی تکمیل میں ہم سب سے اجتماعی کوتاہیاں ہوئیں،ہم نے اپنے بزرگوں کی طرح پاکستان کو دنیا کی معاشی قوت بنانے کا عہد کیا ہے،جب قومیں کوئی مقصد طے کرلیتی ہیں تو

پھر کوئی طاقت اس کو نصب العین کو حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی، مشکلات کے پہاڑ اور سمندر بھی مقصد کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے،بہادر مسلح افواج کے ساتھ ملکر دشمن کے عزائم خاک میں ملائیں گے۔75ویں یوم آزادی کے حوالے سے جناح کنونشن میں منعقدہ عالی شان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ ہم پاکستان کا 75واں یوم آزادی منا رہے ہیں، ہم دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے دن ہماری دعا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی جلد آزادی کی نعمت حاصل کرسکیں۔شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا، سیکڑوں لوگ زندگی کی بازی ہار گئے، لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے، اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور زخمی ہونے والوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔وزیراعظم نے کہا کہ تحریک آزادی پاکستان کی ولولہ انگیز داستان ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ جب قومیں کوئی مقصد طے کرلیتی ہیں تو پھر کوئی طاقت اس کو نصب العین کو حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی، مشکلات کے پہاڑ اور سمندر بھی اس مقصد کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔شہباز شریف نے کہا کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار سے پھوٹنے والی روشنی کے بارے میں مخالفین مایوسیاں پھیلاتے تھے کہ

پاکستان کبھی قائم نہیں ہوسکتا لیکن مشاہیر پاکستان کی عظت کو سلام ہے کہ جن کی جد و جہد، آہنی عزم نے ماسیوں کو پاش پاش کردیا اور آج ہم ایک آزاد، خودمختار جمہوری ملک کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بر صغیر کے مسلمانوں نے سالہا سال سامراج کے ظلم و ستم کو برداشت کیا، ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے، انہوں نے خون کے دریا عبور کیے، شہادتیں دیں، تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو کھودیا لیکن اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب و کامران رہے۔

انہوںنے کہاکہ یہ انہیں عظیم قربانیوں کا انعام تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک نظریاتی ملک عطا کیا اور ہمیں سامراج کی غلامی سے آزادی دلائی، ہم جہد وجہد آزادی کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ان کی درجات کی بلندی کی کے لیے دعا کرتے ہیں، ان ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو تقسیم ہند کے خونی دور کی نذر ہوگئیں۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ وطن عزیز کے قیام میں صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ اقلیتی برادری نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا، ہم ان کوبھی سلام پیش کرتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ آپ سب اس ملک میں اپنے مذہب کی ادائیگی میں پوری طرح آزاد ہیں، ان کا مطلب یہ تھا کہ مسلم اکثریت والے اس ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی حکمرانی ہوگی اور انہیں رہنما اصولوں کے تحت ہم آگے بڑھتے رہیں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ آج کا دن پاکستان کی سول سوسائٹی کی خدمات کے بھی اعتراف کا دن ہے، ہم عبد الستار ایدھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ جیسی انسان دوست تمام شخصیات کی خدمات کو ہم سلام پیش کرتے ہیں، ذرائع ابلاغ،

دانشوروں اور تمام اہل قلم کے کردار کا تذکرہ کیے بغیر پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔وزیراعظم تغ مول کہ وطن عزیز ایک مقدس امانت اور ایک مشن ہے، اس کا مرحلہ قیام پاکستان کی شکل میں مکمل ہوچکا لیکن اس مشن کا دوسرا مرحلہ تاحال نا مکمل ہے، ایک مشن ہمارے اسلاف نے بے مثال قربانیوں اور جدوجہد سے مکمل کیا لیکن دوسرا مشن ہم نے پورا کرنا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ دوسرا مشن ان مقاصد کو عملی تعبیر دینے کا ہے جو قیام پاکستان کی اصل بنیاد ہیں جن کا ذکر 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے

والی قرارداد پاکستان میں موجود ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جس ملک کو تقسیم کے وقت اس کے اپنے جائز وسائل سے بھی محروم کردیا گیا تھا وہ آج دنیا کی معزز اقوام میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، صنعت و حرفت اور معیشت میں ترقی کر رہا ہے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ذہین اور قابل ترین افراد پیدا کررہا ہے، پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی جوہری قوت ہے۔انہوںنے کہاک شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے جوہری پروگرام کا آغاز کیا اور میرے قائد محمد نواز شریف نے اس کو پایہ تکمیل پہنچایا،

اس کارنامے سے وابستہ تمام افراد اور ادارے پاکستان کے محسن ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار نمایاں ہے، کھیل کے میدانوں میں ہمارے کھلاڑیوں نے پاکستان کا پرچم سربلند کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے ترقی نہیں کی، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جس تسلسل، توجہ اور رفتار سے ہم نے اپنی منزل کو حاصل کرنا تھا اس میں ہم سے اجتماعی کوتاہیاں ہوئی ہیں، یہ ہی وہ مشن آج ہمارے سامنے ہے اور جسے ہم نے پورا کرنا ہے۔

انہوںنے کہاکہ بحیثیت قوم آج ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، اس کے لیے ہمیں نیشنل ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے، تا کہ ماضی کی غلطیوں کی واضح نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح احوال کی مخلصانہ جدوجہد کا آغاز ہو۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششوں کا نکتہ آغاز میثاق معیشت بن سکتا ہے، اپنے بزرگوں کی طرح ہم نے پاکستان کو دنیا کی معاشی قوت بنانے کا عہد کیا ہے، ہمیں دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کا ہدف قومی مقرر کرنا ہوگا،

یہ ہی مستقبل کی راہ ہے ، اگر ہم جوہری قوت بن سکتے ہیں تو معاشی قوت کیوں نہیں بن سکتے ؟۔وزیراعظم نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں دن رات ایک کرنا ہوگا، دنیا پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پاکستان صلاحیت، جذبے اور تخلیقی قوتوں میں دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ آزادی بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے، اس کی حفاظت کے لیے ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہائیں گے ،

مایوسیاں پھیلانے والوں کی پھر ہار ہوگی، ہم سب مل کر پاکستان کو معاشی ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کریں گے ، بہادر مسلح افواج کے ساتھ مل کر دشمنوں کے عزائم خاک میں ملادیں گے۔انہوںنے کہاکہ نوجوان ملک کا سرمایہ اور ہمارا مستقبل ہیں، نوجوانوں نے ہی اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے،

نوجوانوں کو مواقع کی فراہمی ہماری ذمے داری ہے ، ماضی می بھی نوجوان ہماری ترجیحات کا مرکز رہے ہیں اور آج بھی ہیں، ہمیں نوجوانوں کے ساتھ مل کر کشکول کو سمندر میں پھینکنے کے لیے دن رات محنت کو شعار بنانا ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ

68 سال بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے قومی ترانے کو دوبارہ ایک نئے آہنگ کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں ملک بھر کی مختلف ثقافتوں، رنگ و نسل اور پاکستانیوں کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے ، یہ وفاق پاکستان کے خوبصورت گلدستے کی عکاسی ہے۔انہوںنے کہاکہ میں اس قومی ترانے کو ریکارڈ کرنے والی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎