حکومت ایک بار پھر سستی ایل این جی خریدنے میں ناکام

  ہفتہ‬‮ 16 جنوری‬‮ 2021  |  23:44

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی حکومت ایک بار پھر سستی ایل این جی خریدنے میں ناکام ہو گئی۔اس بات کا انکشاف نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کیا گیا، انکشاف کیا گیا کہ جمعے کو مارچ کے ایل این جی ٹینڈر میں بھی حکومت کو 22 اعشاریہ دو فیصد کا ریٹ ملا، جنوری میں دیر سے ٹینڈر کی وجہ سے پہلے ہی عوام اورانڈسٹری پریشان ہیں۔پروگرام میں کہا گیا کہ پانچ ماہ کی مسلسل تاخیر سے حکومت کو یا تو ایل این جی ملی ہی نہیں لیکن جب ملی تو تاریخ کے مہنگے ترین ریٹ پر ملی،


انکشاف کیا گیا کہ حکومتی نااہلی کی وجہ سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ایک خبر رساں ادارے کے مطابق وفاقی حکومت نے مہنگی ایل این جی خرید کر قومی خزانے کو 30 ارب سے زائد کا نقصان پہنچانے کے بعد اپنی پالیسی پر نظرثانی شروع کر دی تھی۔سردیوں میں بار بار دیر سے ٹینڈر کر کے مہنگی ایل این جی خریدنے،غلطی ماننے سے انکار کرنیوالی حکومت نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزارت پیٹرولیم نے اپریل کیلئے ایل این جی خریدنے کے سلسلے میں 3 ماہ پہلے 31 دسمبر کو ہی اشتہار دے دیاتھا، اس سے پہلے وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر اپنی غلطی ماننے سے انکار کرتے رہے ہیں۔سردیوں میں مہنگی ایل این جی خریدنے کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف 35 ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا بلکہ جنوری کے پہلے 20 دن کیلئے ایل این جی کے سپلائرز آئے ہی نہیں۔ ایل این جی نہ ملنے کے باعث ہی عوام گیس کا بحران بھگت رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎