منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کیخلاف جنگ کوئی حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی، اپوزیشن کا ان پٹ لینے کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم عمران خان نے ٹرانسپورٹ بندش بارے بھی انتہائی اہم بات کر دی

datetime 25  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹ والی بندش کی طرف نہیں جانا چاہیے، کورونا کیخلاف جنگ کوئی حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی، اپوزیشن کا ان پٹ لینے کے لیے تیار ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کی زیر صدات قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈرز کی ویڈیو کانفرنس ہوئی جس سے وزیراعظم عمران خان نے بھی خطاب کیا۔

ویڈیو کانفرنس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو اور شیری رحمان نے شرکت کی جب کہ ن لیگ کی جانب سے شہبازشریف، مشاہداللہ خان اور خواجہ آصف شریک ہوئے۔پارلیمانی لیڈرز سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا کو چین میں رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے چین سے ابھی تک ایک بھی کورونا وائرس کا کیس پاکستان میں نہیں آیا۔انہوں نے بتایا کہ کل تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 900 مریض تھے جس میں سے صرف 153 کورونا وائرس کے مقامی مریض ہیں جب کہ اب تک پاکستان آنے والے 9 لاکھ سے زائد افراد کی ائیر پورٹ پر اسکریننگ کی جا چکی ہے۔عمران خا ن نے کہا کہ پاکستان جب یہ جنگ جیتے گا تو اس میں تمام پاکستانی شامل ہوں گے، تمام صوبے اور سیاسی فورس ہوں گی، اپوزیشن کا ان پٹ لینے کے لیے تیار ہیں، ایک قوم یہ جنگ جیت سکتی ہے کوئی حکومت اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ جب کورونا کے کیسز سانے آئے تو فوری طور پر یونیورسٹیز، کالجز،کرکٹ میچز اور عوامی اجتماعات کو بند کردیا گیا، جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے تھے وہ جگہ ہم نے بند کردی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کے معاملے پر کنفیوژن ہے، ہمیں ٹرانسپورٹ بند کرنے والا لاک ڈاؤن ابھی نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ٹرانسپورٹ کی بندش سے ملک میں مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ٹرانسپورٹ بند ہونے سے کھانے پینے کی اشیا کی سپلائی بھی متاثر ہو گی۔

عمران خان کا کہنا تھا اگر خدانخواستہ ملک میں کرفیو لگانا پڑے تو اس کی تیاری ہونی چاہیے، لاک ڈاؤن کی آخری اسٹیج کرفیو ہے، لاک ڈاؤن سے ساری انڈسٹری بند ہوگئی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خوف میں لیے گئے فیصلوں کا درست جائزہ نہیں لیا جاتا، کرفیو کی صورت میں ہمیں لوگوں کوگھروں میں کھانا پہچانا پڑے گا، ہمیں مشاورت کرنی چاہیے اور چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے معاملے پر سندھ بہت آگے چلا گیا ہے، لاک ڈاؤن سے ہماری تعمیراتی صنعت متاثر ہو گی، میڈیا کی طرف سے پریشر پڑا جس پر کے پی، بلوچستان اورپنجاب نے بھی لاک ڈاؤن شروع کر دیا۔عمران خان کا کہنا تھا کورونا وائرس کے خلاف جنگ پوری قوم کی مدد سے ہی جیتی جاسکتی ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں غریب طبقے کا دھیان رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے، کل نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وفاق اپنا موقف دے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…