ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹانے کا حکم ، کہیں سپریم کورٹ کی جگہ شاپنگ مال ہی نہ بن جائے، پارلیمنٹ بھی یہاں نہیں رہے گی ، چیف جسٹس نے چیئرمین سی ڈی اے کوکھلی چھٹی دیکردھماکہ خیز احکامات دیدئیے

  جمعرات‬‮ 19 مارچ‬‮ 2020  |  13:23

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے عوامی پلاٹ کی تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹانے کا حکم دے دیا۔ جمعرات کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹوائیں، پارلیمنٹ دور سے نظر آنی چاہیے۔عدالت نے اسلام آباد کے کھیلوں کے میدان اور گرین بیلٹس پر قبضے ختم کروانے کا حکم دیدیا ۔چیف جسٹس نے کہاکہ تجاوزات سب جگہ ختم کروائیں، ایسا نہ ہو کہ دو سے تین لوگوں کے خلاف کارروائی ہو۔ چیف جسٹس نے چیئر


مین سی ڈی اے سے مکالمہ کیا کہ چیئرمین صاحب نقشہ لیں اور شہر میں نکل جائیں، سی ڈی اے کی جتنی بھی کمرشل مارکیٹیں ہیں پارکنگ نہ ہونے سے چوک ہوگئی ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ ہم نے ایسے 8 پلاٹس کی نشاندھی کی ہے جن کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسے 8 نہیں سینکڑوں پلاٹ ہوں گے، اسلام آباد کا نقشہ ہی بدل دیا گیا، گرین بیلٹ پر گھر بن گئے یا کمرشل پلازے۔چیف جسٹس نے کہاکہ شہر کے بیچ چلے جائیں تو دم گھٹتا ہے، اسلام آباد نیا شہر تھا اس کے ساتھ کیا کیا، چیئرمین صاحب اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں آپ کے پاس آئیڈیاز ہیں۔ وکیل نے کہاکہ دنیا میں شہروں میں اب ری پلاننگ بھی کی جاتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پاکستان میں ری پلاننگ کا مطلب ہے مال بنانا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ری پلاننگ ہوئی تو سپریم کورٹ کی جگہ شاپنگ مال نہ بن جائے، پارلیمنٹ بھی یہاں نہیں رہے گا۔چیف جسٹس نے کہاکہ سی ڈی اے اپنے ہاتھ مضبوط کرے، سی ڈی اے ہے افسران اپنے دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد کو دارلحکومت رہنے دیں اسے ہنگامہ شہر نہ بنائیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی ۔


موضوعات: