ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹانے کا حکم ، کہیں سپریم کورٹ کی جگہ شاپنگ مال ہی نہ بن جائے، پارلیمنٹ بھی یہاں نہیں رہے گی ، چیف جسٹس نے چیئرمین سی ڈی اے کوکھلی چھٹی دیکردھماکہ خیز احکامات دیدئیے

datetime 19  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے عوامی پلاٹ کی تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹانے کا حکم دے دیا۔ جمعرات کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ڈی چوک پر لگا گیٹ ہٹوائیں، پارلیمنٹ دور سے نظر آنی چاہیے۔

عدالت نے اسلام آباد کے کھیلوں کے میدان اور گرین بیلٹس پر قبضے ختم کروانے کا حکم دیدیا ۔چیف جسٹس نے کہاکہ تجاوزات سب جگہ ختم کروائیں، ایسا نہ ہو کہ دو سے تین لوگوں کے خلاف کارروائی ہو۔ چیف جسٹس نے چیئر مین سی ڈی اے سے مکالمہ کیا کہ چیئرمین صاحب نقشہ لیں اور شہر میں نکل جائیں، سی ڈی اے کی جتنی بھی کمرشل مارکیٹیں ہیں پارکنگ نہ ہونے سے چوک ہوگئی ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ ہم نے ایسے 8 پلاٹس کی نشاندھی کی ہے جن کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسے 8 نہیں سینکڑوں پلاٹ ہوں گے، اسلام آباد کا نقشہ ہی بدل دیا گیا، گرین بیلٹ پر گھر بن گئے یا کمرشل پلازے۔چیف جسٹس نے کہاکہ شہر کے بیچ چلے جائیں تو دم گھٹتا ہے، اسلام آباد نیا شہر تھا اس کے ساتھ کیا کیا، چیئرمین صاحب اس مسئلے کا کوئی حل نکالیں آپ کے پاس آئیڈیاز ہیں۔ وکیل نے کہاکہ دنیا میں شہروں میں اب ری پلاننگ بھی کی جاتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پاکستان میں ری پلاننگ کا مطلب ہے مال بنانا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ری پلاننگ ہوئی تو سپریم کورٹ کی جگہ شاپنگ مال نہ بن جائے، پارلیمنٹ بھی یہاں نہیں رہے گا۔چیف جسٹس نے کہاکہ سی ڈی اے اپنے ہاتھ مضبوط کرے، سی ڈی اے ہے افسران اپنے دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اسلام آباد کو دارلحکومت رہنے دیں اسے ہنگامہ شہر نہ بنائیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…