جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا، پاکستان اب محفوظ ملک ہے، وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو اہم پیغام دے دیا

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

ڈیووس (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کا شکار خطے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں،بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا ہے جسے ہندوتوا یا آر ایس ایس کہا جاتا ہے اور نریندر مودی اس انتہا پسند تنظیم کا تا حیات رکن ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ مسئلہ ہے جتنا لوگ یا دنیا سمجھتی ہے،

مسئلہ یہ ہے کہ بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا ہے جسے ہندوتوا یا آر ایس ایس کہا جاتا ہے اور نریندر مودی اس انتہا پسند تنظیم کا تا حیات رکن ہے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 80 لاکھ لوگ گزشتہ سال 5 اگست سے محاصرے میں ہیں، بھارتی فورسز ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو تحویل میں لے چکی ہے اور ان کے تمام سیاسی رہنماوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے جو دو ایٹمی ممالک کے درمیان تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ہوگا کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہیں اور پاکستان صرف قیام امن میں ہی شراکت داری کرے گا۔انہوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان اب محفوظ ملک ہے جہاں کاروبار کے شاندار مواقع ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کردیا ہے اور وہ پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور امریکی صدر پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مداخلت کرنے پر ایک مرتبہ پھر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے دیا جانا چاہیے کہ وہ کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں گے۔عمران خان نے بھارت میں جاری متنازع شہریت قانون پر جاری مظاہروں پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…