تبدیلی وہی لوگ لاتے ہیں جو رسک لینے کو تیار ہوتے ہیں، جو کرنا ہے، بس کرجائیں، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی کھری باتیں

  ہفتہ‬‮ 14 دسمبر‬‮ 2019  |  20:36

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ تبدیلی وہی لوگ لاتے ہیں جو رسک لینے کو تیار ہوتے ہیں، جو کرنا ہے، بس کرجائیں، نیت ٹھیک ہونی چاہیے، لوگ تنقید کرتے رہیں گے،جوسمت چل رہی ہے اسے چلنے دیں،پی آئی سی واقعہ افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ دل والے ہسپتال میں جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، معزز پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔وفاقی دارالحکومت میں قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہسپتال حملے والے کیس پر


زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اس پر میں زیادہ بات نہیں کر سکتا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کیساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں، ڈاکٹرز اور وکیل دونوں ہی معاشرے کے باوقار پیشے ہیں۔ دونوں پیشوں کیساتھ گرانقدر روایات منسلک ہیں۔ معزز پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ماڈل کورٹس کے ذریعے تیز ترین انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں، کورٹس نے تاثر پیدا کر دیا دو دن میں فیصلہ آنا ہے۔ ماڈل کورٹس میں کیسز منتقل کرنے کی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔ 25 اضلاع میں کیسز کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ سینئر وکیل کے ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں بیک وقت کیس لگے ہوئے تھے۔ ماڈل کورٹس کے طریقہ کار پر آج تک کوئی شکایت نہیں ملی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نظام میں رہتے ہوئے انصاف کے عمل کو مختصر کیا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ تبدیلی وہی لاتے ہیں جو رسک لینے کے لیے تیار ہوتے ہیں، معزز پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ریاست میں گواہوں کولانے کی ذمہ داری مدعی پر ڈال دی گئی، ہم نے فیصلہ کیا گواہوں کولاناریاست اورپولیس کی ذمہ داری ہوگی،ریاست وپولیس کوگواہوں کو لانے کی ذمہ داری دینے سے انقلابی تبدیلی آئی، ایسا سسٹم بنایا ہے17دن کے اندر چاہے نامکمل چالان ہو لیکن پیش ہوجائے۔ان کا کہنا تھا کہ وکلا کے مختلف عدالتوں میں پیش ہونے کا شیڈولنگ سسٹم بنایا، سینئر وکیل کے ہائی کورٹ، سپریم کورٹ میں بیک وقت کیس لگے ہوتے تھے، درخواستیں آنا شروع ہوگئیں کہ ہمارے کیسزماڈل کورٹس منتقل کئے جائیں، ماڈل کورٹس نے یہ تاثر پیدا کردیا کہ 2دن میں فیصلہ آنا ہے تو ضمانت کیا لینی۔چیف جسٹس نے کہا جج صاحبان کیس کی کارروائی پہلے دن سے لکھنا شروع کردیتے ہیں، پہلے دن سے کیس لکھنے سے فیصلہ سنانے میں آسانی ہوتی ہے، 5 سال سے میرے بینچ میں کسی کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہوئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں 208دن میں 1لاکھ15ہزارٹرائل مکمل کئے گئے، ایسی ٹیم بن گئی ہے ہرمعاملے پرچیف جسٹس کومداخلت کی ضرورت نہیں پڑے،جہلم جیسے ضلع میں زیرالتواء کیسزکی شرح صفر ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ 6 ماہ پہلے آج تک ایک بھی شکایت کسی طرف سے نہیں آئی، شکایت نہیں آئی کہ جج صاحب کی مووجدگی میں کوئی شہادت ریکارڈ کی گئی ہو،سپریم کورٹ کے جج صاحبان نیکہاماڈل کورٹس پرچھاپہ ماریں گے، بذریعہ ویڈیولنک ماڈل کورٹس کی کارروائی دیکھیں۔انہوں نے کہا کہ 1994کی کچھ کرمنل کیسزکی اپیلیں تھیں جو ختم کردی گئیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تبدیلی وہی لوگ لاتے ہیں جو رسک لینے کوتیارہوتے ہیں، جو کرنا ہے بس کر جائیں،نیت ٹھیک ہونی چاہیے، لوگ تنقید کرتے رہیں گے، جو سمت چل رہی ہے اسے چلنے دیں، تضحیک کے باعث بنے ادارے کوآپ نے عزت کے قابل بنادیا، 1.6بلین روپے کے جرمانے لگائے، 120 بلین کے جرمانے ریاست کو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پولیس کیساتھ لیویزنے بھی بہت تعاون کیا، اسلام آباد میں بیٹھ کرکوئی بھی بلوچستان کے حالات کااندازہ نہیں کرسکتا، لیویز اہلکاروں سے امید ہے، وہ آئندہ بھی تعاون جاری رکھیں گے، ماڈل کورٹس کے ججز کا طریقہ سماعت ہائیکورٹ کی سطح کا ہے، ماڈل کورٹس نے مردہ سسٹم میں جان ڈال دی ہے

موضوعات: