بادشاہی نظام رائج کرنے سے مسلمان پیچھے چلے گئے، بڑے مقصد کیلئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں،عمران خان نے نوجوانوں کو اہم پیغام دیدیا

  پیر‬‮ 9 دسمبر‬‮ 2019  |  15:39

اسلام آباد ( آن لا ئن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے تھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوری طرز حکمرانی کے بجائے بادشاہی نظام رائج ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا، جمہو ریت میں پوری فیملی سیاست میں آ جاتی ہے جو جمہوریت کی نفی ہے۔بڑے مقصد کیلئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، جنون ٹیلنٹ کو ہرا دیتا ہے، انسان کا وژن جتنا بڑا ہوگا اتنی ہی کامیابی حاصل کرے گا، کچھ دن پہلے بھی ایک پلان ہوا تھا، اے بی اور سی ہوا تھا اور اب زیڈ پر چلا گیا۔نیشنل یونیورسٹی فار سائنس


اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں پاکستان کے پہلے ٹیکنالوجی پارک کی افتتاحی تقریب میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا نے کہا کہ نبی ؐ کے اصولوں پر عمل کر کے مدینہ کی ریاست 700 سال تک قائم رہی اور مسلمان عروج پر پہنچے آج ان اصولوں پر مغرب زیادہ عمل پیرا ہے، پاکستان میں تعلیم کا معیار اور شرح انتہائی کم ہوچکی ہے تاہم سب سے اچھا معیار اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہے لہٰذا اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، طلبہ کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ انسان جو بھی خواب دیکھتا ہے وہ ممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کا علم ہی نہیں ہوتا جس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا و ژن بڑا کریں ،وژن سے پیچھے ہٹنے والے کبھی کا میا ب نہیں ہو تے ،گر کر کھڑے ہو نے کے بعد مزید طاقت آجا تی ہے جو اپنی ذات سے بالاتر ہوتا ہے وہ کا میا ب ہو تا ہے، انسانیت ہو تی بھی اپنی ذات سے آگے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو بھی بڑا ا آدمی بنا جس نے اپنی ذات سے باہر نکل کر کام کیا۔دنیا امیر لوگوں کو یاد نہیں رکھتی بلکہ ان کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے انسانیت کے لیے کام کیا۔وزیراعظم نے بل گیٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیسے کو اپنی ضروریات تک محدود رکھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں وہ اپنی دولت کا زیاد ہ حصہ غربا اورمساکین پر خرچ کر تے ہیں ۔ اپنی بات کو جا ری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ دل کی بات سنیں کیوں کہ جذبہ صلاحیت پر غالب آجاتا ہے اور جذبہ ہو تو انسان 16 16 گھنٹے کام کرتے ہیں یہ جذبہ اس صورت میں نکلتا ہے جب آپ اپنے آپ کو چیلنج کریں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے کا عزم کریں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات سیکھنے کا موقع ہوتا ہے اور انسان کا اصل امتحان برے وقت سے نکلنا ہوتا ہے۔وزیراعظم نے طلبہ کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ زندگی میں آنے والا ہر برا وقت مزید آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن جب آپ اپنے آپ کو چیلنج کرنا بند کردیتے ہیں آپ کا زوال شروع ہوجاتا ہے میں نے بہت سارے لو گوں کو دیکھا ہے ریٹا ئر ہو تے ہی وہ بوڑھے ہو جا تے ہیں بال سفید ہو جا تے ہیں اور ہا رٹ اٹیک ہو تا ہے تو مر جا تے ہیں ایساکیو ں ہو تا ہے ایسا اس لیا ہو تا ہے کہ ان کا وژن ختم ہو جا تا ہے ۔انہوں نے نوجوانوں کو رول ماڈل کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا رول ماڈل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خود رول ماڈل قرار دیا۔ہر کسی کا رول ما ڈل ہو تا ہے جب میں چھو ٹا تھا تو میر ا رول ما ڈل میر اکزن تھا پھر جب کرکٹ شروع کی تو رول ماڈل تبدیل ہو تے رہے لیکن اصل رول ما ڈل ہما رے آخری نبی ؐ ہے ۔انہوں نے کہا کہ نبی ؐ کے اصولوں پر عمل کر کے مدینہ کی ریاست 700 سال تک قائم رہی اور مسلمان عروج پر پہنچے آج ان اصولوں پر مغرب زیادہ عمل پیرا ہے اور خوشحال ہے مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوریت کا نہ ہونا اور بادشاہت کا قائم ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں خاندانی سیاست جمہوریت کی نفی ہے۔واضح رہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پارک نسٹ کے نواح میں قائم کیا گیا ہے جسے ماحولیاتی نظام کے حوالے سے ملک کے سب سے بڑے جدت پرمبنی اور تحقیقی ادارے کے طور پر سراہا جارہا ہے ۔مذکورہ پارک میں 40 سے زائد کمپنیوں کے دفاتر ہیں جن میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ کے بیان کے مطابق یہ پارک ممتاز محققین، جدت پسندوں اور کاروباری اداروں کے لیے لانچ پیڈ کی حیثیت سے خدمات انجام دے گا۔

موضوعات: