بھارتی کوششیں ناکام، سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیرپر دوٹوک موقف اختیارکرلیا،یو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس کی بریفنگ

  جمعہ‬‮ 16 اگست‬‮ 2019  |  22:34

نیویارک (آن لائن ) مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے، سلامتی کونسل نے فیصلہ سنا دیا، پاکستان کی خصوصی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں مستقل اور غیر مستقل اراکین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا اور مسئلے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کرنے پر زور دیا، یو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس لوئٹے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔اقوام متحدہ کے قیام امن سپورٹ مشن کے معاون سیکریٹری جنرل آسکر فرنانڈس نے بھی شرکاء  کو بریفنگ دی۔۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے


کے بھارتی اقدام اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس ختم ہو گیا ہے۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے 5 مستقل جبکہ 10 غیرمستقل ارکان نے شرکت کی، پاکستان اور بھارت نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا بریفنگ دیتے ہوئے  کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج 50 برس بعد کشمیریوں کی آواز سنی گئی۔ پاکستان سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں جموں و کشمیر کے مسئلے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کے وزیرخارجہ کے خط پر 72 گھنٹوں میں طلب کیا گیا تھا اور اس میں تعاون کرنے پر ہم چین کے بھی شکر گزار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر سنی گئی، ان کی مشکلات، تکالیف کو آج سلامتی کونسل میں سنا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے انعقاد کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی اور سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اجلاس طلب کرنے پر اتفاق کیا تھا۔پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی توثیق کی ہے، پاکستان اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ آج یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے اندرونی معاملے سے متعلق مفروضے کو مسترد کرتا ہے۔پوری دنیا مقبوضہ کشمیر کے معاملے اور وہاں کی صورتحال پر بات کررہی ہے جسے سلامتی کونسل میں بھی بات چیت کی گئی۔ یہ پہلا قدم ہے لیکن آخری نہیں، یہ سلسلہ اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک مقبوضہ کشمیرکے انصاف نہیں مل جاتا۔انہوں نیکہا کہ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کیا جاسکتا ہے ان کی آوازیں اپنے گھر اور سرزمین پر شاید نہ سنی گئی ہوںلیکن آج ان کی آواز اقوام متحدہ میں سنی گئی اور سنی جائے گی۔کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، سلامتی کونسل کے اراکین کے شکر گزار ہیں کہ 50 سال میں پہلی مرتبہ اس مسئلے پر بات چیت کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے جس کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ دوسری جانب  اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے چین کے مستقل مندوبنے بتایا کہ سلامتی کونسل اجلاس میں تمام 15 ممالک نے مقبوضہ کشمیر اور وہاں انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے چین کا موقف بڑا واضح ہے جس کا اظہار چینی وزیر اعظم اپنے پاکستانی اور انڈین ہم منصبوں کے ساتھ کرچکے ہیں، یو این سیکرٹری جنرل نے بھی اس پر اپنا بیان دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان اور انڈیا کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے، کشمیر کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے اور یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ چین کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ انڈیا نے آئین میں ترمیم کرکے سٹیٹس کو اور باہمی معاہدوں کو ختم کرنے کی کوشش کی،انڈیا کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل قبول نہیں ہیں، ان اقدامات سے چین کی سلامتی بھی متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ معاملے کو مزید پیچیدہ نہ کیا جائے اور دونوں ممالک اس حد تک معاملات کو نہ لے جائیں کہ کشیدگی میں اضافہ ہو، دونوں ممالک کو یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان اور انڈیا چین کے دوست اور ہمسائے ہیں، انڈیا اور پاکستان ترقی پذیر ممالک ہیں جو ترقی کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ خطے میں امن و امان کو برقرار رکھیں۔دھر ذرائع کے مطابق بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جسے پاکستان نے اپنی کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ناکام بنا دیا۔یاد رہے کہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازع کشمیر پر بات ہوئی۔وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے 13 اگست بروز منگل کو سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں استدعا کی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جارحانہ اقدامات پر نظر ڈالی جائے۔ پاکستان اس سے پہلے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسی موضوع پر دو خط لکھ چکا ہے۔سلامتی کونسل کا یہ خصوصی اجلاس پاکستان اور چین کی درخواست پر بلایا گیا تھا جس کے 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر غور کیا۔اجلاس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام اور وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملات پر بحث ہوئی۔ پاکستان اور بھارت سلامتی کونسل کے رکن نہ ہونے پر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی کل تعداد 15 ہے جن میں 5 مستقل جبکہ 10 غیر مستقل رکن ہیں۔ امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ مستقل ارکان ہیں۔غیر مستقل ارکان میں بیلجیئم، آئیوری کوسٹ، ڈومنیکن ریپبلک، جرمنی، گنی، انڈونیشیا، کویت، پیرو، پولینڈ اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔

موضوعات:

loading...