پیپلزپارٹی کے گڑھ ”لاڑکانہ“ میں ”ایڈز“ تیزی سے کیوں پھیل رہاہے؟بلاول کے ملک ٹوٹنے سے متعلق انتباہ کی وجہ کیا تھی؟ کیا نواز شریف کا علاج ملک سے باہر ہی ممکن ہے،عدالت اور حکومت یہ سہولت دے دے گی؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

  جمعرات‬‮ 25 اپریل‬‮ 2019  |  21:56
آج سندھ سے ایک انتہائی افسوسناک خبر موصول ہوئی‘ لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں 16 بچوں کے خون کے نمونے لئے گئے‘ 16 میں سے 13 بچے ایڈز کے مریض نکل آئے‘ بچوں کی عمریں چار ماہ سے 8 سال کے درمیان ہیں‘صوبائی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق لاڑکانہ میں اڑھائی ہزار ایڈز کے رجسٹرڈ مریض ہیں اور یہ تعداد سندھ کے تمام اضلاع میں سب سے زیادہ ہے‘ سندھ میں ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی کے ایک لاکھ مریض ہیں‘ میرا خیال ہے سندھ حکومت کو۔۔اس پر بھی توجہ دینی چاہیے‘ سیاست اپنی جگہ لیکن خدمت بھی کرنی چاہیے‘ لوگوں کی زندگیاں بھی بچانی چاہئیں‘ بلاول بھٹو اور سید مراد علی شاہ دونوں کو اس ایشو پر ٹاسک فورس بھی بنانی چاہیے اور یہ ایشو سال کے اندر اندر ختم بھی کرنا چاہیے کیونکہ اگر لوگ ہی نہیں ہوں گے تو آپ سیاست کن پر کریں گے‘ ہمارا خیال تھا سلپ آف ٹنگ کا ایشو ختم ہو جائے گا لیکن یہ بڑھنا شروع ہو گیا ہے‘ آج شیخ رشید بھی اس میں کود پڑے ہیں جبکہ بلاول بھٹو کے منہ سے بھی خان کہتی ہے نکل گیا‘ یہ ذاتی حملے کب رکیں گے اور کہاں تک جائیں گے جبکہ بلاول بھٹو نے آج کی میڈیا ٹاک میں دو اور نقطے بھی اٹھائے، نواز شریف کے وکیلوں نے نواز شریف کی مستقل ضمانت کی درخواست دے دی‘ وکیلوں کا کہنا ہے میاں نواز شریف کا علاج ملک سے باہر ہی ممکن ہے‘ کیا عدالت اور حکومت میاں صاحب کو یہ سہولت دے دے گی۔

موضوعات:

loading...