’’جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کے پابند نہیں‘‘ سپریم کورٹ ججز کے ریمارکس پر لیگی کیمپ میں شادیانے بج اٹھے

  پیر‬‮ 17 جولائی‬‮ 2017  |  12:58

اسلام آباد ( آئی این پی)  سپریم کورٹ کے  جسٹس اعجاز افضل خان   نے پانامہ عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی دستاویزات کے ذرائع کیا ہیں؟ ذرائع جانے بغیر کیا دستاویزات کو درست قرار دیا جاسکتا ہے؟   شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے،  شہباز شریف کا بیان صرف تضاد کی نشاندہی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے، بیان کا جائزہ دفعہ فوجداری 161 کے تحت لیا جاسکتا ہے۔

قانونی حدود کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، کیا دستاویزات قانون کے مطابق پاکستان

لائے گئے ہیں؟   ضرورت پڑنے پر والیم 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے،  نااہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی ، قطری خطوط بوگس ہیں یا ان کے حوالے سے بنائی گئی کہانی؟   بینی فشل مالک ہونے کا فرق نواز شریف کو پڑ سکتا ہے؟ فرق تب پڑے گا جب مریم والد کے زیر کفالت ثابت ہوں گی، الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کروانا پڑیں۔جسٹس اعجاز الاحسن ریمارکس دیئے کہ   جے آئی ٹی کی فائنڈنگ سارا پاکستان جان چکا ہے جے آئی ٹی فائنڈنگ  کے پابند نہیں،  جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کیوں کریں؟ یہ آپ نے بتانا ہے، کیا نواز شریف  نے کبھی تنخواہ وصول کی؟ ریکارڈ کے مطابق کچھ نہ کچھ تنخواہ ملتی رہی ریکارڈ سے واضح  ہے کہ ہر ماہ تنخواہ نہیں ملتی تھی ؎پیر کو سپریم کورٹ میں پانامہ عمل درآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات عدالت میں جمع کرادیئے۔ اعتراض میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے۔

رپورٹ میں غیر جانبداری کا عنصر موجود نہیں جے آئی ٹی نے دیئے گئے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ اسحاق ڈار کی جانب سے بھی جے آئی ٹی پر اعتراضات جمع کروائے گئے۔ نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دو ججز نے بیس اپریل  کے فیصلے میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا تین ججز نے مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔ جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ جمع کراچکی  ہے۔

جے آئی ٹی نے رپورٹ عدالتی حکم پر جمع کرائی۔ انہوں نے کہا کہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ  گلف اسٹیل 33ملین درہم میں فروخت ہوئی شہباز شریف  نے خود کو معاملے سے ہی الگ کرلیا۔ ٹرسٹی ہونے کے لئے ضروری تھا مریم کے بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ  کو جعلی قرار دیا۔ بیریئر سرٹیفکیٹ منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ نہیں  تھی۔ فرانزک ماہری نے ٹرسٹ ڈیڈ کی فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔

وکیل  نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کہا 2006 میں ٹرسٹ ڈیڈ  میں استعمال فونٹ بنا ہی نہیں تھا۔  لندن فلیٹ شروع دن سے ہی شریف خاندان کے پاس ہیں۔ جے آئی ٹی نے قطری فلیٹ ورک شیٹ کو بھی افسانہ قرار دیا نعیم بخاری نے کہا کہ  جے آئی ٹی نے لندن فلیٹ کو مریم نواز کی ملکیت قرار دیا جے آئی ٹی نے وراثتی تقسیم میں لندن فلیٹ  کا  کوئی ذکر نہیں وزیراعظم نے قوم اور اسمبلی خطاب میں قطری سرمایہ کا ذکر نہیں کیا۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ شہباز شریف کا بیان صرف تضاد کی نشاندہی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے بیان کا جائزہ دفعہ فوجداری 161 کے تحت لیا جاسکتا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ نااہل کرنے والے ججز سے اتفاق کرنا ہے یا نہیں۔ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ قانونی حدود کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔   جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے کی  اصل دستاویزات سربمہر ہیں۔

نعیم بخاری  نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز  کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کوئی ذکر نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ قطری کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا۔  نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے چار خطوط لکھے۔ جے آئی ٹی نے کہا قطری پاکستانی قانونی حدود ماننے کے لئے تیار نہیں۔ قطری شہزادے نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھائے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ ہل میٹل کا معاملہ ہم نے نہیں اٹھایا تھا۔

بیس اپریل کے عدالتی فیصلے سے ہل میٹل کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ سعودی حکومت نے قانونی معاونت کے لئے لکھے خط کا جواب نہیں دیا۔ جے آئی ٹی نے قانونی فرم کی خدمات سے کچھ دستاویزات حاصل کیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن  نے کہا کہ کیا وہ دستاویزات تصدیق شدہ ہیں؟ نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات تصدیق شدہ نہیں لیکن جے آئی ٹی نے درست مانی ہے۔  نعیم بخاری نے کہا کہ نواز شریف نے عزیزیہ اسٹیل ملز کی فروخت کی دستاویزات نہیں دیں۔

جے آئی ٹی نے قرار دیا ہل میٹل عزیزیہ ملز کی فروخت سے نہیں بنی جے آئی ٹی نے قرار دیا عزیزیہ ملز 63 نہیں 42ملین ریال  میں فروخت ہوئی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ  ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی  خط کے جواب میں ملیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ  حسن نواز کے مطابق ایف زیڈ ای  کمپنی 2014 میں ختم کردی گئی نواز شریف کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا نواز شریف  نے کبھی تنخواہ وصول کی؟

ریکارڈ کے مطابق کچھ نہ کچھ تنخواہ ملتی رہی ریکارڈ سے واضح  ہے کہ ہر ماہ تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ  کمپنی نے نواز شریف کا اقامہ بھی فراہم کیا نواز شریف کی تنخواہ 10ہزار ریال تھی۔  دستاویزات پر نواز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ کیا دستاویزات قانون کے مطابق پاکستان لائے گئے ہیں؟ نعیم بخاری نے کہا کہ  اس کا جواب جے آئی ٹی  دے سکتی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اگر دستاویزات جے آئی ٹی کے خط کے جواب میں آئے تو ٹھیک ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے  یو اے ای حکومت کو سات بار خطوط لکھے  یو اے ای کی وزارت قانون نے چار خطوط کا جواب دیا یو اے ای حکومت کو لکھے گئے خطوط  والیم 10میں ہوں گے۔ جسٹس اعجاز افضل خان  نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر والیم 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ  نااہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فلیگ شپ کے علاوہ بھی آٹھ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ حسن اور حسین نواز کے بیان میں تضاد ہے۔ حسن نے کہا 2006 سے پہلے انہیں برطانیہ رقوم منتقلی کا علم نہیں تھا قطری خط  اور ورک شیٹ خود ساختہ اور بوگس ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ قطری خطوط بوگس ہیں یا ان کے حوالے سے بنائی گئی کہانی؟ نعیم بخاری نے کہا کہ میرے حساب سے دونوں ہی بوگس ہیں۔

جے آئی ٹی کے مطابق برطانیہ کی کمپنیاں خسارے میں چل رہی ہیں۔ کمپنیوں کا خسارہ دس ملین پائونڈ سے بھی زیادہ تھا۔جے آئی ٹی  نے کہا کہ حسن نواز فنڈز کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔ جے آئی ٹی نے کمپنیوں کے درمیان فنڈز ٹرانسفر کا بھی جائزہ لیا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا جے آئی ٹی نے بتایا ہے فنڈز آئے کہاں سے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ  جے آئی ٹی نے کہا حسن کے پاس کاروبار کے لئے  پیسے نہیں تھے۔

جے آئی ٹی نے کہا حسن کے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف مقدمات 1991 سے زیر التواء ہیں 9مقدمات میں لکھا ہے تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔ تحقیقات کہاں جاری ہیں یہ نہیں بتایا گیا۔ جے آئی ٹی  نے تمام مقدمات سے متعلق سفارشآت بھی  کی ہیں۔ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے تمام ارکان کے اثاثوں کا جائزہ  لیا۔ اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کے اثاثوں کا بھی جائزہ لیا گیا ۔

اسحاق ڈار کے اچاثے بھی آمدن سے زائد قرار دیئے گئے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ  جے آئی ٹی دستاویزات کے ذرائع کیا ہیں؟ ذرائع جانے بغیر کیا دستاویزات کو درست قرار دیا جاسکتا ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات قانونی معاونت کے تحت فراہم کی گئیں۔ شریف خاندان نے جعلی دستاویزات پیش کیں۔  جعلی دستاویزات  پیش کرنے پر فوجداری مقدمہ  بنتا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ بینی فشل مالک ہونے کا فرق نواز شریف کو پڑ سکتا ہے؟

فرق تب پڑے گا جب مریم والد کے زیر کفالت ثابت ہوں گی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ شریف خاندان کا تمام دفاع ناکام ہوگیا۔  نعیم بخاری نے عدالت سے نواز شریف کو طلب کرنے کی استدعا کی۔ نعیم بخاری  کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل دیتے ہوئے  کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے خالو کو پہچاننے سے انکار کیا۔

جسٹس اعجاز  افضل خان نے کہا کہ رپورٹ تو ہم نے  بھی پڑھی ہوئی ہے آپ سے رپورٹ پر دلائل مانگے ہیں۔ توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ   جے آئی ٹی کی فائنڈنگ سارا پاکستان جان چکا ہے جے آئی ٹی فائنڈنگ  کے پابند نہیں۔ عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کیوں کریں؟ یہ آپ نے بتانا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اپنے اختیارات  کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں

یہ بتائیں جے آئی ٹی سفارشات پر کس حد تک عمل  کرسکتے ہیں یہ بتائیں توفیق آصف نے کہا کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ دے کر معاملہ ٹرائل کورٹ کے لئے بھجوائیں۔  بادی النظر میں وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بادی النظر کا مطلب ابھی صادق و امین پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ توفیق آصف کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عوامی مسلم لیگ  کے سربراہ شیخ رشید نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی اور ججز کو قوم کی خدمت کا اجر ملے گا۔

انشاء اﷲ  انصاف جیتے گا اور پاکستان کامیاب  ہوگا۔ ہر کسی کے پیچھے ایک فیس ہوتی ہے اس کیس کے پیچھے فیس نواز شریف کی ہے۔ نواز شریف نے لندن فلیٹ کے باہر کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کی مریم نواز بینی فیشل مالک ثابت  ہوگئیں جس عمر میں شناختی کارڈ نہیں بنتا ان کے بچے 800 کروڑ  بنا لیتے ہیں قوم کی ناک کٹ گئی۔ وزیراعظم دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے شیخ سعید اور سیف الرحمن  نواز شریف کے فرنٹ مین ہیں شیخ سعید نواز شریف کے ساتھ ہر عرب ملک کی میٹنگ میں ہوتے تھے۔

ان میٹنگز میں پاکستانی سفیروں کو بھی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ نواز شریف کا تنخواہ لینا یا نہ لینا  معنی نہیں رکھتا معاملہ ملک کی عزت کا ہے جو ڈھائی گھنٹے بعد خالو کو پہچانے اس پر کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ شیخ رشید  نے کہا کہ جے آئی ٹی پر اعتراضات کا جواب دینے کا موقع ملنا چاہئے۔  شریف خاندان دبئی اور دیگر ممالک کے چکر لگا رہا ہے پی ٹی وی کا خاکروب 18ہزار ‘ وزیراعظم 5 ہزار انکم ٹیکس دیتا تھا۔  اقتدار میں آکر ہی سارا کاروبار شروع کیا گیا۔

حسن اور حسین نواز کا 2000ء تک کوئی کاروبار نہیں تھا۔ صدرنیشنل بینک نے تسلیم کیا وہ جعلسازی کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔  وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی  سے متعلق دو درخواستیں دائر کی ہیں ایک درخواست والیم 10کی فراہمی کی ہے دوسری درخواست میں جے آئی ٹی  پر اعتراضات درج ہیں۔ دستاویزات اکٹھی کرنے میں جے آئی ٹی نے قانون کی خلاف ورزی کی۔

جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے جے آئی ٹی کی دستاویزات کو ثبوت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔  عدالت جے آئی ٹی رپورٹ اور درخواستیں خارج کرے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے ہا کہ اپنے دلائل کو ایشو تک محدود رکھیں آسانی ہوگی چاہتے ہیں عدالت اور قوم کا وقت ضائع نہ ہو۔  خواجہ حارث نے کہا کہ رپورٹ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نہیں رپورٹ قانون اور حقائق کے خلاف ہے۔ رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا۔  جے آئی ٹی نے عدالت کے کرنے والا کام کیا ہے۔  جسٹس اعجاز افضل خان  نے کہا کہ الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کروانا پڑیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی عدالتی احکامات سے کافی آگے چلی گئی تھی۔عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی ٹرائل نہیں کررہی تھی اپنے الفاظ کا استعمال احتیاط سے کریں۔ عدالت نے سماعت منگل تک ملتوی کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں