سری لنکا کے بعد پاکستان

  اتوار‬‮ 24 اپریل‬‮ 2022  |  0:01

23 فروری 2022ء کو پہلا خوف ناک ایشو پیدا ہوا‘ کولمبو پورٹ پرآئل کیریئر 40ہزار ٹن فیول (پٹرول) لے کر پہنچا‘بینک آف سیلون نے پٹرول کی پے منٹ کرنی تھی لیکن بینک کے پاس ڈالر ختم ہو گئے‘ وزیرخزانہ سے رابطہ کیا گیا ‘ وزیرخزانہ نے سٹیٹ بینک سے بات کی لیکن اس کے پاس صرف دو ارب اور 30 کروڑ ڈالر تھے اور وہ بھی کرنسی کی شکل میں نہیں تھے

لہٰذا سری لنکا پٹرول نہ خرید سکا اور جہاز پٹرول سمیت انڈیا روانہ ہو گیا‘ یہ سری لنکا کے دیوالیہ پن کا سٹارٹ تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مہاتما بودھ کا پسندیدہ ملک 49دنوں میں مکمل دیوالیہ ہو گیا اور سری لنکا نے 12اپریل کو خود کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیا۔ ہم نے دیوالیہ کا صرف لفظ سنا ہے‘ ہم اس کے نتائج اور ردعمل سے بالکل واقف نہیں ہیں‘ میں لوگوں کو اکثر یہ کہتے سنتا ہوںہم اگر دیوالیہ ہو بھی گئے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ مولانا خادم حسین رضوی مرحوم کی ایک تقریر آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں وہ فرما رہے تھے ہم سے جو بھی ملک اپنے پیسے واپس مانگے اسے کہو چل اوئے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے کہو لو فیر آیا جے غوری‘ میں نے لوگوں کو اس تقریر پر واہ واہ اور سبحان اللہ‘ سبحان اللہ بھی کہتے سنا‘ یہ آوازیں بھی ثابت کرتی ہیں ہم حقائق کی دنیا سے غافل بے عقل لوگ ہیں‘ سری لنکا میں بھی ایسے لاکھوں لوگ تھے‘یہ بھی حکومت کو کہتے تھے ’’ہم اگر دیوالیہ ہو بھی گئے تو کیا فرق پڑتا ہے‘‘ لیکن آج سب سے زیادہ یہی لوگ رو رہے ہیں‘ سڑکوں پر مظاہرے ہو رہے ہیں اور سرکاری دفتروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر یہ اہلکار اور سرکاری محکمے اب کیا کر سکتے ہیں؟ پورا ملک اس وقت ٹوٹی ہوئی کشتی کی طرح سمندر میں ہچکولے کھا رہا ہے اور پوری دنیا میں اسے بچانے اور سہارا دینے والا کوئی شخص موجود نہیں‘ آپ اگر دیوالیہ پن کو سمجھناچاہتے ہیں تو آپ چند مثالیں دیکھ لیں‘ سری لنکا کو تین ہزار میگا واٹ بجلی چاہیے ہوتی ہے جب کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4 ہزار میگاواٹ ہے لیکن 80فیصد بجلی تھرمل پاورپلانٹس سے پیدا ہوتی ہے اور یہ پلانٹس ڈیزل‘ فرنس آئل اور کوئلے پر چلتے ہیں‘ ان کے لیے ڈالرز چاہییں اور سری لنکا کے پاس ڈالرز نہیں ہیں لہٰذا پاورپلانٹس بندہیں اور نتیجے میں ملک میں روزانہ ساڑھے سات گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے‘ صبح آٹھ بجے سے ایک بجے اور شام چھ سے ساڑھے آٹھ بجے تک پورے ملک میں بجلی نہیں ہوتی اورلوڈشیڈنگ کی وجہ سے ٹیلی ویژن‘ موبائل فون سروسز‘ دفتر‘ سکول‘ ہسپتال‘ ریستوران‘ چائے خانے اور ہوٹل بند ہو جاتے ہیں‘ یہ پڑھ کر آپ کے ذہن میں سوال آئے گا یہ ادارے اپنے جنریٹرزکیوں نہیں چلا لیتے؟ یہ چلا سکتے ہیں لیکن جنریٹرز ڈیزل‘ پٹرول‘ فرنس آئل‘ گیس اور کوئلے سے چلتے ہیں اور یہ سہولتیں اس وقت ملک میں موجود ہی نہیں ہیں‘

بجلی کی بندش سے ٹیوب ویل اور پانی کی موٹرز نہیں چل رہیں چناں چہ پورے ملک میں پانی اور سیوریج دونوں بڑے بحران بن چکے ہیں‘ پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہو چکی ہے اور ریل سروس بھی‘ ذاتی گاڑیاں بھی گیراجوں میں کھڑی ہیں یا پھر پارکنگ لاٹس اور گلیوں میں‘ بچوں کے امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں کیوں کہ ایجوکیشن بورڈز کے پاس امتحان کی کاپیاں

اور سوال چھاپنے کے لیے کاغذ ہی موجود نہیں ہیں‘ ڈرائیونگ لائسنس‘ شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بھی نہیں بن رہے کیوں کہ پلاسٹک شیٹس امپورٹ نہیں ہو رہیں‘ سری لنکا کی ایکسپورٹس کا 52 فیصد ٹیکسٹائل اور گارمنٹس پر مشتمل تھا‘ جی ڈی پی میں چائے کی ایکسپورٹ کا والیم 17فیصد تھا جب کہ باقی 31 فیصد آمدنی مسالوں‘ قیمتی پتھروں‘ کوکونٹ‘ ربڑ‘ فش اور سیاحت سے آتی تھی‘ تیل کی بندش‘

لوڈشیڈنگ اور ڈیفالٹ کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری اور چائے سمیت ساری ایکسپورٹس رک گئیں‘ فلائیٹس بند ہوئیں تو سیاحت کی انڈسٹری بھی دم توڑ گئی‘ مسافر نہیں آ رہے تو ہوٹل‘ ریستوران اور عجائب گھر بھی اجڑ گئے‘ پاکستان کی طرح سری لنکا کے مالیاتی ذخائر کا بڑا سورس بھی تارکین وطن ہیں‘ ملک کے معاشی حالات خراب ہوئے تو دوسرے ملکوں میں مقیم سری لنکن نے بھی رقمیں بھجوانا بند کر دیں

لہٰذا بحران بڑھتا چلا گیا اور آج سری لنکا پوری دنیا کو محتاج نظروں سے دیکھ رہا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے کے لیے تیار نہیں۔ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں آخر سری لنکا اس حالت کو کیسے پہنچا؟ ہم سردست سیاسی وجوہات کو سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں اور عملی چیزیں دیکھتے ہیں‘ سری لنکا قدرتی وسائل سے مالا مال خوب صورت ملک ہے‘ دنیا کی بہترین چائے پیدا کرتا ہے‘ گھنے جنگلوں کا مالک ہے‘ بودھ مت کا گڑھ ہے لہٰذا مدہبی سیاحت کے خزانے بھی ہیں‘ دنیا جہاں کے مسالے بھی پیدا ہوتے ہیں‘

سری لنکا کی دارچینی پوری دنیا میں مشہور ہے‘ یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آیا تو دنیا کے نامور برینڈز گاہک بن گئے‘ چار سائیڈز سے سمندر میں گھرا ہوا ہے لہٰذا ہر قسم کا ساحل بھی ہے اور ان ساحلوں پر سیکڑوں ریزارٹس اور ہوٹلز بھی‘ 92 اشاریہ تین فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں‘ بھکاری بھی روزانہ اخبار پڑھتے ہیں‘ برصغیر کی قدیم ترین لائبریری گال شہر میں ہے‘

یہ ہالینڈ کے جہاز رانوں نے 1832ء میں بنائی تھی اور آج بھی چل رہی ہے‘ مہاتما بودھ کا ایک دانت کینڈی شہر میں رکھا ہوا ہے اور پوری دنیا سے بودھ بھکشو اس کی زیارت کے لیے کینڈی آتے ہیں‘ سری لنکا سائوتھ ایشیا کا پہلا ملک تھا جس نے 1970ء میں اپنی معیشت کو لبرل بنایا تھا اور سری لنکن بہت صفائی پسند‘ ڈسپلنڈ اور نرم مزاج لوگ بھی ہیں‘ مہمان نوازی کے شعبے میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن پھر ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے سری لنکا دیوالیہ ہو گیا؟ اس کی چھ وجوہات ہیں‘

پہلی وجہ قرضے ہیں‘ سری لنکا کو بھی پاکستان کی طرح قرضوں کی لت لگ گئی تھی‘ یہ تازہ ہوا کے لیے بھی قرضہ لے لیتا تھا‘ یہ قرضے بڑھتے بڑھتے جی ڈی پی کا 119 فیصد ہو گئے یعنی آپ جو کچھ کما رہے ہیں وہ اور اس کے ساتھ مزید 20 فیصد قرضوں کی قسطوں میں دے رہے ہیں لہٰذا ملک ہماری طرح قرضے کی ادائیگی کے لیے بھی قرض لینے پر مجبور ہو گیا‘ دوسری وجہ پاکستان کی طرح سری لنکا کا بجٹ اور تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا یعنی جتنا بجٹ بناتے تھے یہ اس سے زیادہ خرچ کر دیتے تھے اور انہیں جتنی آمدنی برآمدات سے ہوتی تھی یہ اس سے زیادہ رقم درآمدات پر خرچ کر دیتے تھے‘

یہ لوگ بھی ہماری طرح بیچتے کم اور خریدتے زیادہ تھے‘ تیسری وجہ سری لنکا میں ہماری پی آئی اے اور سٹیل مل کی طرح502 ایسے سفید ہاتھی تھے جن پر بجٹ کا 20فیصد حصہ خرچ ہو جاتا تھا‘ ان اداروں میں سیاسی بھرتیاں ہوتی تھیں‘ صرف دفتروں کے تالے کھولنے اور بند کرنے کے لیے بیس بیس لوگ تھے‘ یہ ہاتھی کھاتے بہت زیادہ تھے لیکن واپس کچھ نہیں کرتے تھے‘

چوتھی وجہ سری لنکا کی ٹریڈ پالیسی بنی‘ پالیسی بہت اچھی تھی‘ یہ سائوتھ ایشیا کا پہلا ملک تھا جس نے اپنی معیشت عالمی منڈی کے لیے اوپن کی لیکن پاکستان کی طرح ان کی انڈسٹری اور تجارت بھی بیوروکریسی کے ہاتھوں ذلیل ہو رہی تھی‘ فیکٹریوں کے مالکان کا ایک پائوں فیکٹری میں ہوتا تھا اور دوسرا سرکاری دفتروں میں‘ ارب پتی لوگ بھی عام سرکاری دفتروں کے برآمدوں میں بیٹھے ہوتے تھے‘ غیرملکی کمپنیاں بھی سری لنکا آئیں لیکن بیوروکریسی کے تاخیری حربوں‘

رشوت اور منفی رویے کی وجہ سے واپس چلی گئیں لہٰذا بیوروکریسی کی وجہ سے سری لنکن بزنس مین ترقی بھی نہ کر سکے اور یہ ہانگ کانگ‘ ملائیشیا اور تائیوان میں بھی بیٹھ گئے‘ پانچویں وجہ سری لنکا مسلسل 26سال خلفشار اور خانہ جنگی کا شکار رہا‘ تامل ٹائیگرز نے 1983ء میں جنگ شروع کی اور یہ 2009ء تک مسلسل لڑتے رہے‘ اس جنگ نے ملک‘ معیشت اور فوج تینوں کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں‘ دنیا میں خودکش حملوں کے تازہ موجد بھی تامل ٹائیگرز تھے‘ خودکش جیکٹ ان لوگوں نے بنائی تھی‘

سری لنکا نے پاکستان کی مدد سے 2009ء میں اس عفریت پر قابو پایا لیکن یہ جاتے جاتے ملک کا سب کچھ لے گیا اور چھٹی وجہ سری لنکا میں تعلیم بہت ہے لیکن پاکستان کی طرح عملی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے‘ لوگ ڈگری ہولڈرز ہیں مگر ان کے پاس ہنر کوئی نہیں لہٰذا پاکستان کی طرح سری لنکا میں بھی ہر شخص نوکری کی درخواست جیب میں ڈال کر پھر رہا تھا اور اس کا نتیجہ ڈیفالٹ کی صورت میں نکلا۔

سری لنکا کی مثال دیکھ کر آپ یہ بات اب سمجھ لیں دنیا میں کوئی قوم قدرت کی فیورٹ نہیں ہوتی‘ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین قوم تھی لیکن اس نے بھی جب قدرت کے سسٹم کی خلاف ورزی کی تو وہ بھی ہزاروں سال ذلیل و خوار ہوتی رہی ‘ ہم مسلمان بھی 14سو سال سے خوار ہو رہے ہیں‘

کیوں؟ کیوں کہ ہم بھی نیچر کے سسٹم سے الٹ چل رہے ہیں لہٰذا یہ یاد رکھیں اگر اللہ تعالیٰ نے 22ملین سری لنکن کی کوئی مدد نہیں کی تو نالائقی‘ سستی اور نااہلی کے مارے 220ملین پاکستانیوں کے لیے بھی کوئی غیبی امداد نہیں آئے گی اور آپ یہ بھی یاد رکھیں ہم سری لنکا سے صرف پانچ ماہ پیچھے ہیں اور ہم نے اگر ان پانچ ماہ میں خود کو نہ بچایا تو سری لنکا کے بعد ہم اگلی دیوالیہ قوم ہوں گے

اور ہم اگر خدانخواستہ اس گڑھے میں گر گئے تو پھر ہمیں باہر نکلنے کے لیے پہلی قیمت گوادر اور ایٹمی پروگرام کی شکل میں ادا کرنی پڑے گی اور اس کے بعد دوسری‘ تیسری اور چوتھی قیمتیں بھی موجود ہیں لہٰذا سنبھل جائیں گنجائش نہیں ہے۔میری درخواست ہے آرمی چیف اور چیف جسٹس آگے بڑھیں‘ سیاست دانوں کو اکٹھا بٹھائیں‘ نیشنل ایجنڈا بنائیں اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچائیں ورنہ پھر اس ملک میں کسی کو کسی سے چھپنے کی مہلت نہیں ملے گی۔



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎