سٹیٹ کو جاگنا ہوگا

  جمعرات‬‮ 7 جنوری‬‮ 2021  |  0:01

امیت سکھ خاندان میں پیدا ہوا‘ یہ لوگ ڈیرہ بابا نانک (کرتار پور) میں رہتے تھے‘ دو بھائی اور ایک بہن تھے‘ والدین کھیتی باڑی کرتے تھے‘ کرتار پور 1947ءمیں پاکستان میں آ گیا‘ پنجاب میں سکھ مسلمان فسادات شروع ہو ئے‘ امیت اس وقت آم توڑ رہا تھا‘ والدین‘ بہن اور چھوٹا بھائی گھر میں تھا‘گھر پر حملہ ہوا‘ اس کے والد کو قتل کر دیا گیا‘ ماں اور بہن اجتماعی زیادتی کے بعد مار دی گئیں جب کہ چھوٹا بھائی مسنگ ہو گیا‘ امیت سنگھ مہاجرین کے ساتھ انڈیا چلا گیا۔

ہندوستان میں اس کا کوئی والی وارث نہیں تھا چناں چہ اسے عیسائی یتیم خانے کے حوالے کر دیا گیا‘یہ بچہ ذہین اور لائق تھا‘ اس نے یتیم خانے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی‘

میرٹ پر میڈیکل کالج پہنچا‘ ڈاکٹر بنا اور پریکٹس شروع کر دی‘ شادی ایک کٹڑ ہندو خاتون پدما سے ہو گئی‘ یہ لوگ بعدا زاں احمد آباد شفٹ ہو گئے‘ ایک مسلمان محلے میں رہائش پذیر ہوئے اور ڈاکٹر امیت سنگھ مسلمان مریضوں کا علاج کرنے لگا‘ ایک بیٹا پیدا ہوا‘ وہ شروع سے لادین تھا‘ وہ بڑا ہو کر امریکا چلا گیا‘ بیگم کینسر سے انتقال کر گئی‘ ڈاکٹر بوڑھا ہو کر ڈیمنشیا کا مریض ہو گیا‘ اس کی شارٹ ٹرم میموری مدہم پڑنے لگی‘ یہ ایک دن اپنے ماضی کو کھوجتا ہوا کرتار پور کے بارڈر پر پہنچ گیا‘ وہ بھارت کی سرزمین پر کھڑا تھا‘ اس کی زندگی کا 95 فیصد حصہ اس زمین پر گزرا تھا جب کہ دوسری طرف اس کا وہ گاﺅں تھا جس میں اس نے جنم لیا تھا‘ اس کی جڑیں اس زمین میں دفن تھیں‘ درمیان میں ایک لکیر اور تار کی چھوٹی سی دیوار تھی‘ ڈاکٹر امیت نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور باقی زندگی تار کی اس دیوار کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کر لیا‘ اس دوران اس کا بیٹا واپس آ گیا اور وہ بھی بارڈر پر پہنچ گیا‘ سرحد پردوسری طرف اطلاع ہوئی‘ پتا چلا اس کا چھوٹا بھائی فسادات میں محفوظ رہا تھا‘ اسے اس کے والد کے ایک مسلمان دوست نے گود لے لیا تھا‘ وہ مسلمان ہو گیا تھا اور وہ اب مسلمان بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ رہا ہے اور پانچ وقت نماز پڑھتا ہے۔

ڈاکٹر امیت اس وقت سرحد پر کھڑے کھڑے کہتا ہے‘ میں سکھ خاندان میں پیدا ہوا تھا‘ میری پرورش عیسائی یتیم خانے میں ہوئی‘ میں نے بیوی کی وجہ سے تیس سال ہندو روایات کے مطابق زندگی گزاری اور میں بیس سال مسلمان محلے میں پریکٹس کرتا رہا‘ میری آنکھ ہمیشہ اذان کی آواز سے کھلی اور دعائیں سنتے سنتے بند ہوئی‘میں20 سال ہر جمعہ کو مسلم علماءکی تقریریں بھی سنتا تھا‘ میرا بیٹا لادین نکلا اور اب میرا ایک مسلمان بھائی بھی دریافت ہو گیا ہے چناںچہ میں اپنے اس وسیع تجربے کی بنیاد پر دو نتیجوں پر پہنچا ہوں‘ ہم سب صرف اور صرف انسان ہیں اور دوسرا دنیا کا کوئی مذہب کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہیں دیتا۔

ہمارے سارے اختلافات سیاسی ہیں اور ہم ان سیاسی اختلافات کو مذہب کا رنگ دے کر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں‘ ہم اگر دنیا کو پرامن دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں مذہب سے سیاست نکالنی ہو گی‘ہمیں مذہب کو صرف مذہب بنانا ہو گا‘ زمین پر امن ہو جائے گا۔یہ ڈاکٹر امیت سنگھ ایک جان دار انگریزی فلم کا کردار ہے‘ فلم امریکی ڈائریکٹر جان اپچرچ  نے بنائی ‘اس کا نام مینگوڈریمز ہے‘ ہم اگر ڈاکٹر امیت کی کہانی سے فلم کا لفظ نکال دیں تو یہ مذہب کی ایک شان دار تشریح بن جائے گی مگر ہم ایسا نہیں کریں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ اس سے ٹھیکے داری کو زک پہنچے گی اور یہ ہمیں وارا نہیں کھاتا۔

کاش ہم اگر کسی دن ٹھنڈے دل و دماغ سے مذہب کا جائزہ لے لیں تو ہم یہ جان کرحیران ہو جائیں گے دنیا کا کوئی مذہب کسی دوسرے انسان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا‘ ہر مذہب میں بے گناہوں کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے لیکن سوال یہ ہے ہم انسان پھر لوگوں کو مذہب کے نام پر قتل کیوں کرتے ہیں‘ یہ مذہب کے اندر موجود ٹھیکے داری کا نتیجہ ہے‘ آپ اسلام کی مثال ہی لے لیجیے‘ نبی رسالت نے 9 ذوالحج10 ہجری کو حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا ”اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں تم جب تک ان کا دامن تھامے رکھو گے تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ دو چیزیں ہیں اللہ کی کتاب اور پیغمبر کی سنت“ ۔

گویا اسلام صرف دو چیزوں پر مبنی ہے‘ قرآن مجید اور نبی رسالت کی سنت لیکن پھر کیا ہوا؟ ٹھیکے دار آئے اور انہوں نے اسلام کو صرف قرآن مجید اور سنت تک محدود نہ رہنے دیا‘ ایک فرقہ اٹھا‘ اس نے سنت الگ کر دی اور اسلام کو صرف قرآن تک محدود کر دیا‘ دوسرے نے سنت لے لی اور قرآن مجید کو غلاف میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دیا‘ تیسرا آیا‘ اس نے صرف احادیث کو اسلام بنا دیا‘ احادیث کی چھ کتابیں مرتب ہوئیں اور ہر کتاب نے مقلدین کی پوری کلاس پیدا کر دی۔

چوتھے نے صحابہ کرامؓ کو تقسیم کر کے ان کے جھنڈے اٹھا لیے‘ پانچویں نے اہل بیت سے محبت کو اہم ترین بنا دیا‘ چھٹے نے صوفیاءکرام کو مذہب سے تبدیل کر دیا اور ساتویں نے عشق رسول کو بنیاد بنا لیا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ مسلمان تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے اور ہر تقسیم نے دوسری تقسیم کے خلاف تلوار اور رائفل اٹھا لی اور اصل اسلام پیچھے سے پیچھے سرکتا چلا گیا لہٰذا آج آپ کو اسلامی دنیا میں کسی جگہ اسلام دکھائی نہیں دیتا‘ صرف فرقے نظر آتے ہیں اور ہر فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف نفرت اور حقارت سے بھرا ہوا ہے۔

ہم ایک دوسرے کو کافر بھی سمجھتے ہیں اور قابل گردن زنی بھی‘ ہم نے اپنے ملک تک سنی اور شیعہ سٹیٹس بنا لیے ہیں‘ یہ تقسیم اگر ملکوں تک رہتی تو بھی شاید ہم بچ جاتے لیکن ہم نے نفرت کی تقسیم کو شہر شہر‘ محلے محلے اور خاندان خاندان تک پہنچا دیا‘ ہم نے اپنی مسجدیں اور امام تک تقسیم کر رکھے ہیں اور ایک فرقے کا مسلمان دوسرے فرقے کی مسجد میں نماز تک نہیں پڑھتا‘ ہم سب حج پر ایک کعبہ کا طواف کرتے ہیں‘ ہم ایک رسول کے روضے پر حاضری دیتے ہیں لیکن ہم جوں ہی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سے باہر آتے ہیں تو ہم سنی اور شیعہ اور اس کے بعد دیو بندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث اور وہابی میں تقسیم ہوتے چلے جاتے ہیں۔

چناں چہ ہم اگر کسی دن ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچیں گے تو ہمیں اپنے موجودہ اسلام میں قرآن اور سنت دونوں مسنگ ملیں گے‘ ہمیں مسلمان ہونا چاہیے تھا مگر ہم فرقے بن کر رہ گئے اور ہر فرقہ ایک ٹھیکے داری اور سٹیٹ کے اندر ایک خوف ناک سٹیٹ بن گیا اور یہ سٹیٹ اب کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو کافر قرار دے کر اسے واجب القتل قرار دے دیتی ہے اور اصل سٹیٹ اپنے سارے وسائل خرچ کر کے بھی اس بے چارے کافر کی جان نہیں بچا سکتی‘ ہمیں ماننا ہو گا ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں شناختی کارڈ دیکھ کر اور نام پوچھ کر دوسروں کوقتل کر دیا جاتا ہے‘آپ المیہ دیکھیے ہم صحابہؓ کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا یہ افسوس ناک نہیں؟۔

میں سنی العقیدہ ہوں‘ میں کیوں ہوں مجھے آج تک وجہ معلوم نہیں ہو سکی‘ شاید میرے والدین سنی العقیدہ تھے لیکن یہ بے چارے تو ان پڑھ تھے‘ میرے والد قرآن مجید تک نہیں پڑھ سکتے تھے‘ یہ صرف سنتے تھے اور اسی کو عبادت سمجھتے تھے لہٰذا میں پھر سنی کیسے ہو گیا؟ شاید بچپن میں میرا زیادہ تر وقت بریلویوں میں گزرا تھا‘ اب سوال یہ ہے میں اگر کسی شیعہ خاندان میں پیدا ہو گیا ہوتا یا میرا بچپن کسی شیعہ اکثریتی محلے میں گزرا ہوتا یا میرے دوست شیعہ ہوتے تو میں آج کیا ہوتا ؟

اگلا سوال یہ ہے کیا میں صرف کسی خاندان میں پیدا ہونے یا کسی محلے میں رہنے کی وجہ سے آج واجب القتل ہو گیا ہوتا اور خدانخواستہ میں اگر کسی عیسائی‘ ہندو‘ سکھ‘ پارسی یا اسماعیلی خاندان میں پیدا ہو جاتا تو کیا میری پیدائش جرم ہو جاتی اور مجھے اللہ کی اس زمین پر زندگی گزارنے کا کوئی حق نہ ہوتا؟ ہم کیا ہیں‘ ہم کس کے بچے ہیں اور ہماری پرورش کس ماحول میں ہوئی !کیا ہمیں اس کا اختیار ہے؟اگر ہم اپنی مرضی سے پیدا ہو سکتے ہیں‘ ہم اپنے والدین‘ نام‘ محلہ اور ملک چن سکتے ہیں تو پھر آپ پلیز لوگوں کو موقع دیں۔

یہ آپ کی مرضی کے فرقے میں پیدا ہو جاتے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر پلیز پلیز اور پلیز آپ دوسروں کو زندگی گزارنے کا موقع دے دیں‘آپ یاد رکھیں ہم سب صرف اور صرف انسان ہیں‘ہم سب کسی نہ کسی مذہب یا فرقے میں دھنسے ہوئے ہیں اور ہمارا یہ مذہب یا یہ فرقہ کسی نہ کسی ٹھیکے داری کا شکار ہے اور یہ ٹھیکے دار دوسروں کو کافر قرار دے کر قتل کرتے چلے جا رہے ہیں اور اس کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے آج اس ملک میں انسان ہونا جرم ہو گیا ہے‘ ہمارے ملک میں آج کتے اور بلیاں محفوظ ہیں لیکن انسان محفوظ نہیں ہیں‘ یہ واجب القتل ہو چکے ہیں۔

مچھ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہزارہ برادری کے گیارہ مزدوروں کو باندھ کر قتل کر دیا گیا‘ ان کا جرم ہزارہ ہونا تھااور قاتلوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا ہم ان لوگوں کو صرف پیدائش کے جرم میں قتل کر رہے ہیں‘ یہ صرف مزدور ہیں‘ کان کن ہیں‘ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے بعد ان کے خاندان میں تدفین کے لیے بھی کوئی مرد نہیں بچے گا اور یہ ہوا‘ خاندان کی خواتین اپنے مردوں کی لاشیں اٹھا کر سردی میں کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر جا بیٹھیں۔

اور یہ آج بھی بیٹھی ہیں لیکن ہم اس کے باوجود خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور اس ریاست کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی اور ہمیں شرم بھی نہیں آتی‘ آپ یقین کریں اگر یہ سلسلہ ختم نہ ہوا تو اس ملک میں مذہب آرا مشین بن جائے گا اورہم سب ایک دوسرے کو اس آرا مشین پر رکھ کر کاٹ دیں گے لہٰذا خدا کے لیے سٹیٹ کو جاگنا ہو گا‘ اسے آنکھ کھولنی ہو گی ورنہ یہ سٹیٹ بچے گی اور نہ ہم۔


زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎