نوچ نوچ کر

  منگل‬‮ 2 جون‬‮ 2020  |  0:01

آپ کو شام کا وہ بچہ یاد ہو گا‘ والد اسے کمر پر باندھ کر سمندر میں تیر رہا تھا‘ وہ تیر تیر کر تھک گیا‘ ہمت ہار گیا اور سمندر میں ڈوب گیا‘ بچہ اس کی کمر سے نکلا‘ وہ بھی ڈوبا اور مر گیا‘ سمندر نے بعد ازاں بچے کی لاش ساحل پر پھینک دی‘ کسی فوٹو گرافر نے بچے کی لاش کی تصویر بنائی‘ یہ تصویر مغربی میڈیا میں شائع ہوئی اور مہذب دنیا میں کہرام مچ گیا‘ عالمی ضمیر بیدار ہوا اور دنیا شام کے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھولنے پر مجبور ہو گئی۔

یورپ‘ امریکا‘ آسٹریلیا‘ جاپان اور عرب ملکوں نے گیارہ لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی اور اس پناہ پر ان ملکوں کے اربوں روپے خرچ ہو گئے‘ یہ

ستمبر 2015ء کا واقعہ تھا‘ مجھے آج بھی جب یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میں سوچتا ہوں بچے کی اس لاش میں ایسی کیا چیز تھی جس نے مہذب دنیا کو اپنے دروازے شامی مہاجرین کے لیے کھولنے پر مجبور کر دیا؟ میں سوچتا ہوں تو صرف ایک چیز سامنے آتی ہے اور وہ چیز ہے انسانی جان کی حرمت‘ دنیا کا ہر وہ ملک جس میں انسانی جان کی قدر اور قیمت ہوتی ہے وہ ملک مہذب بھی کہلاتا ہے اور ترقی یافتہ بھی جب کہ جن ملکوں میں انسان اور ان کی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی وہ ملک کبھی ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی تہذیب اور شائستگی کے معیار پر پورے اترتے ہیں‘ یہ ملک بے چارے کبھی ملک بھی نہیں بن پاتے اور ہمارے زوال کی سب سے بڑی وجہ انسانی جان کی بے قدری ہے‘ ہمارے سامنے خواہ ہزار لوگ مر جائیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی‘ ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی‘ کراچی کا فضائی حادثہ ہماری اس قومی بے حسی کی تازہ ترین مثال ہے‘ ہمارے سامنے 97 لوگ مر گئے لیکن ہم اگلے ہی دن اس حادثے کو بھول چکے تھے‘ ہمیں یاد ہی نہیں تھا یہ 97 لوگ بھی لوگ تھے اور یہ قومی بے حسی اور ریاستی نالائقی کی وجہ سے چند سیکنڈز میں دنیا سے چلے گئے‘ کیوں؟ کیا ریاست کے کسی ادارے کے پاس اس کیوں کا جواب ہے؟

پوری دنیا میں فضائی سفر کو محفوظ ترین سفر سمجھا جاتا ہے‘ سال سال گزر جاتا ہے لیکن دنیا میں کوئی فضائی حادثہ نہیں ہوتا‘ دنیا میں 42 ایسی ائیر لائینز ہیں جن کا آج تک کوئی طیارہ کریش نہیں ہوا‘ آسٹریلیا کی ائیر لائین کانٹاس کا 1951ء سے کوئی ائیر کریش نہیں ہوا‘ ہوائین ائیر لائین 1929ء میں بنی‘آج تک کوئی حادثہ نہیں ہوا‘ برٹش ائیر ویز کا آخری حادثہ 1985ء میں ہوا تھا‘ ورجن ائیر لائین 1984‘ ریان ائیر لائین 1985ء‘ ایمریٹس1985ء‘ ایزی جیٹ 1995ء‘ اتحاد 2003ء اور قطر ائیر ویز 1993ء میں بنی اور آج تک ان کا کوئی فضائی حادثہ نہیں ہوا جب کہ پاکستان میں 72 برسوں میں 83 فضائی حادثے ہو چکے ہیں۔

پی آئی اے کے اب تک 21 جہاز کریش ہو چکے ہیں اور یہ ان حادثوں کی وجہ سے دنیا کی غیر محفوظ ترین ائیر لائینز میں شامل ہو چکی ہے لیکن ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی‘ ہم نے آج تک پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی‘ ہمارے پاس صرف 32 جہاز ہیں جب کہ قطرائیرویز کے پاس 237‘ ایمریٹس کے پاس257ا ور اتحاد کے پاس 102طیارے ہیں‘ہم 32 طیارے نہیں اڑا پا رہے جبکہ ہم سے چند میل کے فاصلے پر یہ تینوں ائیرلائینز دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں‘ کیا ہم صرف 32 طیاروں کو بھی حادثوں سے نہیں بچا سکتے؟ تف ہے ہم پر۔

دنیا بھر کی ائیرلائینز کیوں محفوظ ہوتی ہیں؟ یہ صرف اور صرف عالمی ایس او پیز کا خیال رکھتی ہیں اور بس‘ کیا ہم میں اتنی بھی اہلیت نہیں؟ دنیا بھر میں ائیر پورٹس شہروں سے باہر اور پانی کے قریب بنائے جاتے ہیں تاکہ جہاز بھی آبادیوں پر نہ گریں اور یہ اگر رن وے پر سلپ ہو جائیں یا پائلٹ کو کریش لینڈنگ کرنا پڑے تو یہ جہاز کو پانی پر اتار لے‘آپ نے کبھی سوچا دنیا جہاں کی فلائیٹس میں تیرنے والی”لائف جیکٹس“ کیوں ہوتی ہیں؟ کیوں کہ تمام جہاز پانی پر اتارے جا سکتے ہیں چناں چہ مسافروں کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ان کی سیٹوں کے نیچے لائف جیکٹس رکھ دی جاتی ہیں۔

دنیا کے نوے فیصد فضائی حادثے لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران ہوتے ہیں چناں چہ پائلٹس کے پاس آپشن ہوتا ہے یہ جہاز کو پانی پر اتار لیں لیکن ہم نے پورے ملک میں کوئی ائیرپورٹ پانی کے قریب نہیں بنایا‘ ہمارا کراچی کا ائیر پورٹ بھی سمندر سے دور ہے چناں چہ ہمارے جہاز جب بھی گرتے ہیں یہ تمام مسافروں کو ساتھ لے جاتے ہیں‘ ہم یہ فیصلہ کیوں نہیں کر لیتے آئندہ ہمارے تمام ائیر پورٹس پانی کے قریب بنائے جائیں گے‘کیا ہم میں یہ فیصلہ کرنے کی اہلیت بھی نہیں؟ ۔

پوری دنیا میں فضائی حادثوں کی تحقیقات کے کمیشن اور ادارے ہیں لیکن ہم نے آج تک کوئی ایسا ادارہ نہیں بنایا‘ ہم ہر حادثے کے بعد عارضی کمیشن بناتے ہیں‘ یہ کمیشن سال ڈیڑھ سال موجیں کرتا ہے اور پھر ڈھیلی ڈھالی سی رپورٹ دے کر گھر بیٹھ جاتا ہے‘ کراچی کے موجودہ حادثے کے بعدبھی ائیر فورس کے چارافسروں کا کمیشن بنا دیا گیا‘ آپ بے حسی کی انتہا دیکھیے اس میں سول ایوی ایشن‘ پولیس اور سیکرٹ ایجنسی کا ایک بھی افسرشامل نہیں۔

کمیشن کے کسی افسر نے آج تک مسافر طیارہ نہیں اڑایا اور یہ سول ایوی ایشن کے ایس او پیز سے بھی واقف نہیں ہیں چناں چہ ان کی رپورٹ کی کیا حیثیت ہو گی؟دوسرا حادثہ اگر کسی دہشت گردی یا سستی کا نتیجہ نکل آیا تو یہ کمیشن مجرموں کا تعین کیسے کرے گا‘ کیا اس کے پاس پولیس کے اختیارات ہیں‘ کیا یہ کسی مجرم کو گرفتار کر سکے گا؟ اگر نہیں تو کیا ہم حادثے کے تین چار ماہ بعد پولیس کو تحقیقات کا حکم دیں گے؟ اگر ہاں تو ان تحقیقات کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ ۔

کیا ہم میں مستقل کمیشن بنانے کی اہلیت بھی نہیں؟ آپ بے حسی ملاحظہ کیجیے لاہور سے ڈی این اے کی ٹیم کراچی بلا لی گئی‘یہ ٹیم بائی روڈ کراچی پہنچ گئی تو سندھ حکومت نے اسے نمونے نہیں لینے دیے‘ کیوں؟ کیوں کہ سندھ حکومت پنجاب کو ڈی این اے کا کریڈٹ نہیں دینا چاہتی تھی لہٰذا لواحقین حادثے کے 11دن بعد بھی لاشوں کے لیے خوار ہو رہے ہیں‘کیا ہم میں اتنی سی کوآرڈی نیشن کی اہلیت بھی نہیں؟ ہمیں چار دن تک بلیک باکس نہیں ملا تھا‘ جب ائیر بس کی ٹیم نے بلیک باکس کے بغیر واپس جانے سے انکار کر دیا تو ہمیں مجبوراً بلیک باکس تلاش کرنا پڑ گیا۔

کیا ہم وقت پر بلیک باکس بھی تلاش نہیں کر سکتے؟ ائیر بس نے حادثے کے 72گھنٹے بعد کرونا اور لاک ڈاؤن کے باوجود اپنی 11رکنی ٹیم کراچی پہنچا دی لیکن ہمارے وزیراعظم اور وزراء کوآج تک کراچی جانے کی توفیق نہیں ہوئی‘ آپ سول ایوی ایشن اور ائیرپورٹ سیکورٹی فورس کی تیاری بھی دیکھ لیجیے‘ طیارہ ان کے سامنے ڈول رہا تھا‘ اس کے اگلے پہیے نہیں کھل رہے لیکن کسی نے رن وے کو آگ سے بچانے کے لیے چھڑکاؤکیا اور نہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی کا اعلان کیا‘ پورا سسٹم چپ چاپ طیارہ گرنے کا نظارہ کرتا رہا‘ کیا ہم میں یہ اہلیت بھی نہیں؟۔

ہم نے طیارہ گرنے کے بعد بھی کیا کیا؟ لاشیں ایدھی اور چھیپا فاؤنڈیشن نے ہسپتالوں تک پہنچائیں‘ لواحقین کو پانی اور افطار عام لوگوں نے کرایا اور انتقال کرنے والوں کا ڈیٹا سوشل میڈیا کے غیر سرکاری پیجز نے وائرل کیا‘ جہاز آبادی پر گرا ہوا تھا لیکن سی ای او ارشد ملک پریس کانفرنس کے لیے ٹائی پسند فرما رہے تھے اور شرٹ استری کرا رہے تھے‘ آپ ظفر مسعود کی جان بچانے والے وکیل کو بھی بلا کر پوچھ لیں وہ آپ کو بتائے گا میں جب ظفر مسعود کو ہسپتال لے جا رہا تھا تو مجھے ملبے میں سے لوگوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔

لوگ اس وقت تک زندہ تھے‘ آپ لاشیں دیکھ لیں‘ 20 سے زائد لوگوں کی میتیں درست شکل میں تھیں‘ یہ ثابت کرتا ہے یہ لوگ ظفر مسعود کی طرح زندہ تھے لیکن یہ بعد ازاں بروقت مدد نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کر گئے‘ لوگ دم گھٹنے اور طیارے کو آگ لگنے کی وجہ سے بھی مر گئے تھے‘ حکومت اگر بروقت کوشش کرتی‘ یہ اگر ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ بجھادیتی یا وقت پرفائر بریگیڈ پہنچ جاتا تو ہم دس بیس لوگوں کو بچا سکتے تھے‘ کیا ہم میں اتنی اہلیت بھی نہیں؟۔

ہمیں آج ماننا ہوگا ہم میں اتنی بھی اہلیت نہیں‘ وہ ریاست جو ائیرپورٹ کے گردونواح میں غیر قانونی تعمیرات نہیں روک سکتی‘ جس کے پائلٹ اللہ کے آسرے پرطیارے اڑاتے ہیں‘ جس کے کنٹرول ٹاور میں بیٹھے لوگوں کو طیارے کے بند ٹائر نظر نہیں آتے‘ جس کے پاس لاشیں نکالنے اور ملبہ اٹھانے کا بندوبست نہیں‘ جس کے صدر اور وزیراعظم جائے حادثہ پر جانا اپنی توہین سمجھتے ہوں‘ جو دس دن بعد بھی لاشوں کا تعین نہ کر سکے اور جس کے ادارے ایک دوسرے کو ڈی این اے کے سیمپل نہ لینے دیں ہم اگر اس ریاست سے یہ توقع کریں گے یہ فلائنگ کے ایس او پیز پر عمل کرا لے گی تو یہ ہماری خام خیالی ہو گی۔

ہمیں بہرحال یہ ماننا ہوگا ہم بحیثیت ریاست ختم ہو چکے ہیں‘ ہم صرف ملبے کا ڈھیر ہیں اور ملبے کے ڈھیروں کا کوئی سسٹم ہوتا ہے اور نہ ہی احساس چناں چہ آپ لکھ لیجیے ہم زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ ہمارے سینے میں انسانی جان کی کوئی قدر‘ کوئی اہمیت نہیں‘ ہمارے اردگرد موجود لوگ خواہ مچھروں کی طرح مر جائیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی اورآپ تاریخ پڑھ لیں قدرت ایسی لاپرواہ قوموں پر کوئی رحم‘ کوئی کرم نہیں کرتی‘ ایسی قومیں بالآخر ایک دوسرے کو نوچ نوچ کر ختم ہو جاتی ہیں اور ہم بھی تاریخ کے اس انجام کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہیں۔