اللہ کرے

  منگل‬‮ 25 جولائی‬‮ 2017  |  0:01

بات بہت عجیب تھی۔والدنے اس کی طرف غور سے دیکھا‘ ہنسی کنٹرول کی اور پوچھا”ذرا پھر سے کہنا‘ کیا کرنا چاہتے ہو؟“۔ نوجوان نے پراعتماد لہجے میں جواب دیا”سی ایس ایس“والد نے باقاعدہ قہقہہ لگایا اور اس کے کان میں سرگوشی کی”جو مرضی کرو لیکن مجھ سے کسی مدد کی امید مت رکھنا“بیٹے نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ والد ادبی شخصیت تھے‘ انہیں اپنے بیٹے کی قابلیت کا علم تھا مگر یہ امید نہیں تھی کہ بیٹا پہلی کوشش

ہی میں پاکستان کا سب سے بڑا امتحان پاس کر لے گالہٰذا وہ بیٹے کے دعوے کو نوجوانی کا زعم سمجھ کر بھول گئے۔ والدکواس وقت حیرت کا جھٹکا لگا جب بیٹے نے آ کر بتایا”ابو میں نہ صرف سی ایس ایس میں پاس ہوگیا ہوں بلکہ میں نے کم عمری میں سی ایس ایس کرنے کا ریکارڈ بھی بنا لیا ہے“۔باپ سکتے میں آگیالیکن اگلے ہی لمحے اس نے بیٹے کو سینے سے لگالیا۔ لڑکاآنے والے دنوں میں واقعی ہونہار نکلا۔یہ ہونہار لڑکا اپنی محنت اور قابلیت سے ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ ادبی شوق وراثت میں ملا تھا لہٰذا کتابیں اس کی اولین ترجیح تھیں‘ کالم لکھنے کا شوق چرایا تو چپکے سے ایک کالم لکھ کر اخبار کو بھیج دیا اور نام ایسا رکھا کہ کوئی پہچان ہی نہ سکے کہ یہ کس معروف شخصیت کا بیٹا ہے۔کالم چھپ گیا اورپھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا‘دنیا آج اسے مستند اور مدلل کالم نگار کی حیثیت سے جانتی ہے‘جی ہاں میں یاسرپیرازادہ کی بات کر رہا ہوں‘ یاسر پیرزادہ سے اکثر پوچھاجاتاہے والد کا نام عطاء الحق قاسمی ہے مگر انہوں نے اپنے نام کے ساتھ قاسمی کیوں نہیں لگایا؟یہ جواب دیتے ہیں قاسمی صاحب بھی کسی دور میں اپنا پورا نام پیرزادہ عطاء الحق قاسمی لکھتے تھے‘ سو مجھے پیرزادہ پسند آگیا‘ میں نے رکھ لیا‘پیرزادہ صاحب آج کل سی ڈی اے کے ممبر ایڈمنسٹریشن ہیں‘یہ کمپیوٹرائزڈروٹین کے مالک ہیں‘ صبح چار بجے بھی سوئیں تو سات بجے اٹھ جاتے ہیں اور

جب جاگتے ہیں تو پھر سوتے نہیں ہیں‘پر کشش شخصیت کے مالک ہیں‘ یہ دلیل کا ہتھیار ساتھ لے کر چلتے ہیں‘آپ ان سے کسی بھی موضوع پر بحث کرلیں‘آپ ان سے جیت نہیں سکتے‘ دلیل کے بغیر یاسر پیرزادہ کو فتح کرنا آسان کام نہیں ہوتا‘ یاسر پیرزادہ نے آج سے چھ ماہ قبل سی ڈی اے کا چارج سنبھالا تو افسروں اور ملازمین کے ذہن میں

ایک ایسے ادبی آفیسر کی شکل آئی جسے دفتری مو شگافیوں اور روایتی سرکاری امور سے کوئی رغبت نہ ہولیکن پیرزادہ صاحب نے چھ ماہ میں حیران کن کام کر کے سب کو حیران کر دیا‘

یاسر پیر زادہ نے چھ ماہ میں ثابت کر دیا کام کرنے کی نیت ہو تو وقت خودبخود پھیل جاتاہے‘ چوبیس گھنٹے 28 گھنٹوں کے برابر ہو جاتے ہیں۔یہ سی ڈی اے کے واحد ممبر ایڈمنسٹریشن ہیں جنہوں نے اسلام آباد کے شہریوں کیلئے پہلی مرتبہ اسلام آباد ایپ متعارف کرائی یوں شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو دارالخلافہ سے متعلق معلومات تک رسائی ہو گئی‘یہ ایپ مفت انسٹال کی جاسکتی ہے اور خاصی معلوماتی اور شاندار سہولت ہے سی ڈی ا ے میں ای فائلنگ جیسا سسٹم ممکن نہیں تھا‘

اسلام آباد دنیا کے ان چند دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے جس میں آج بھی فائل سسٹم چل رہا ہے لیکن یاسر پیرزادہ نہ صرف ای سسٹم متعارف کرایا بلکہ اس پر عملی کام کا باقاعدہ آغاز بھی ہوچکا ہے۔یہ کام سی ڈی اے کا ایک پیسہ خرچ کئے بغیر محض این آئی ٹی بی کے تعاون سے چار ماہ میں مکمل ہو گیا اور اب ایڈمنسٹریشن کی تمام فائلیں کمپیوٹر پر پراسس کی جاتی ہیں‘ یہ بات سی ڈی اے جیسے ادارے میں معجزے سے کم نہیں‘سی ڈی اے میں کئی برسوں سے ایک کمپلینٹ سیل موجود تھا مگر اس کا کوئی پرسان حال نہیں تھا‘

یاسر پیرزادہ نے اسے آن لائن کمپلینٹ سیل میں تبدیل کر دیا‘ اب صارفین اپنی شکایتیں ویب سائٹ‘ ای میل یا فون کی مدد سے درج کرواتے ہیں‘شکایت کے جواب میں خود کار نمبر جینریٹ ہوجاتا ہے اور پھر یہ شکایت خود بخود متعلقہ ڈائریکٹر کے فون اور کمپیوٹر پر آجاتی ہے اور اس وقت تک ”پینڈنگ‘‘ تصور ہوتی ہے جب تک مسئلہ حل نہ ہو جائے۔ اس خود کار نظام کے تحت افسروں کی کارکردگی بھی مانیٹر ہوتی رہتی ہے‘ اس کام میں بھی سی ڈی اے کا ایک پیسہ خرچ نہیں ہوا‘

یہ پراجیکٹ بھی تین ماہ میں مکمل ہو گیا‘آپ اگر اسلام آباد میں رہتے ہیں تو آپ نے سی ڈی اے کی موبائل کمپلینٹ وین بھی دیکھی ہوں گی‘، یہ بھی یاسر پیرزادہ کاکارنامہ ہیں۔یاسرپیرزادہ نے نجی بینک سے معاہدہ کرکے اسلام آباد کے شہریوں کو پراپرٹی ٹیکس اور پانی کے بلوں کی آن لائن ادائیگی کی سہولت فراہم کر دی‘ اس کام پر بھی کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا‘ بینک نے یہ سہولت مفت فراہم کی‘ یہ کام بھی چھ ماہ میں مکمل ہواجبکہ پنجاب حکومت نے اس کام پر تین سال لگائے‘

یاسر پیرزادہ کا کمال ہے یہ سرکار کا پیسہ خرچ کروائے بغیر کام کرنے کا انوکھا طریقہ نکال لیتے ہیں‘ انہوں نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کو اسلام آباد میں سات لاکھ درخت لگانے پررضا مند کر لیا‘یہ کام بھی مفت ہوگا“یاسر پیرزادہ نے سی ڈی اے کے 14 ہزار سے زائد ملازمین کیلئے سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ کا شفاف سسٹم بنا دیا‘ سی ڈی اے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے افسروں اور ملازمین سے سرکاری گھرواپس لے لئے گئے جنہیں ادارے کی طرف سے پلاٹ الاٹ ہو چکے ہیں اور وہ ان پر گھر تعمیر کر چکے ہیں‘

سی ڈی اے کے تمام ملازمین کو اب شفاف ویٹنگ لسٹ کے مطابق گھر الاٹ ہو رہے ہیں اور ہر قسم کی آؤٹ آف ٹرن الاٹمنٹ بند ہو چکی ہیں‘سی ڈی اے ملازمین کوہاؤس بلڈنگ‘ کار اور موٹر سائیکل ایڈوانس کی سہولت دیتا تھا‘یہ سہولت برسوں سے بند تھی‘یاسر پیرزادہ نے یہ سہولت دوبارہ شروع کرا دی‘ سی ڈی اے کے کم آمدن والے ملازمین کی فلاح و بہبود اور شفاف پالیسی کے تحت تبادلے اور ترقیاں دینے کی منظوری بھی ہوگئی تاکہ ادارے میں کرپٹ افراد کی کی حوصلہ شکنی ہو سکے‘

ادارے میں شفافیت کیلئے یاسر پیرزادہ نے ایک دلچسپ حل نکالا‘ گھروں کی الاٹمنٹ کی ویٹنگ لسٹ ہو یا پھر افسروں اور ملازمین کی سینیارٹی لسٹ ہو یہ ہر چیز سی ڈی اے کی ویب سائٹ پر ڈال دیتے ہیں تاکہ ہر کوئی آسانی سے یہ فہرستیں دیکھ سکے‘ماضی میں ان فہرستوں کا حصول عام ملازم کے لئے عذاب سے کم نہیں تھا۔یہ سی ڈی اے کے ایک ایسے انوکھے افسر ہیں جنہوں نے کئی سالوں سے زیر التواء انکوائریاں چند دنوں میں منطقی نتیجے تک پہنچا دیں‘

یاسر پیرزادہ نے ادارے کے ملازمین کی فوری داد رسی کے لیے اپنے دروازے افسروں اور ملازمین کے لیے یکساں بنیادوں پر کھول دیئے‘اس قدم سے وہ نادیدہ قوتیں پسپائی پر مجبور ہو گئیں جو ملازمین کے نام پر ذاتی مفادکے حصول کے لیے سرگرداں رہتی ہیں۔سی ڈی اے نے اسلام آباد کی مختلف شاہراؤں کو قومی ہیرو اور نامور شخصیات کے نام سے منسوب کرنے کا عمل شروع کیا تھا‘ یہ عمل بھی کئی برسوں سے عدم توجہی کا شکار تھا‘ پیرزادہ صاحب نے یہ عمل دوبارہ شروع کر دیا‘

یہ اب تک کئی شاہراہوں کو ملک کی خدمت کرنے والے ہیروز کے نام منسوب کرچکے ہیں‘ان میں احمد ندیم قاسمی روڈ کے علاوہ‘ صفوت غیور شہیدروڈ اورکیپٹن مبین شہید روڈزبھی شامل ہیں‘یاسر پیرادہ نے سی ڈی اے کی آمدن میں اضافہ کرنے کا بھی ایک حل نکال لیا ہے‘ اسلام آباد الیکٹرک کمپنی نے گزشتہ کئی برسوں سے سی ڈی اے کے واجبات ادا نہیں کئے‘ سی ڈی اے یہ واجبات وصول کرنے کی بجائے الٹا آئیسکو کو ہر مہینے مختلف قسم کی ادائیگیاں کرتا ہے‘

پیرزادہ صاحب نے جب ان واجبات کی فائل زندہ کروائی تو معلوم ہوا آئیسکو کے ذمے سی ڈی اے کے اڑھائی ارب روپے نکلتے ہیں‘ آئیسکو کے پاس اب اس ادائیگی کے سوا کوئی چارہ نہیں اور یہ بھی محض ایک شخص کی کوششوں سے ممکن ہوا‘ یہ مختصر سفر جہاں یاسر پیرزادہ کی جذباتی لگن کو ظاہر کرتا ہے وہاں یہ آنے والے دنوں میں سی ڈی اے جیسے ادارے کی ہیئت کی تبدیلی کے آثار کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ محض چھ ماہ میں ادارے میں ایسی طوفانی اصلاحات آسان کام نہیں تھااوریہ کام وہی کرسکتا ہے جو میرٹ اور ایمانداری پر یقین رکھتا ہو‘گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی شاید اسی کو کہتے ہیں‘

ہم من حیث القوم ایک دلچسپ مرض کا شکار ہیں‘ ہم ہر کام کرنے والے شخص کے خلاف ہو جاتے ہیں‘ لوگ پوری زندگی کام نہ کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن اگر کام نہ کرنے والوں میں سے کوئی شخص کام کرنا شروع کر دے تو ہم تلوار لے کر اس کی ٹانگیں کاٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں‘ یاسر پیرزادہ بھی آج کل اسی عمل سے گزر رہے ہیں‘ لوگ دن رات انہیں کام کرنے کی سزا دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘ لوگوں کا خیال ہے یہ پوسٹنگ انہیں ”انعام“ میں ملی ہے‘

00یہ غلط ہے‘ کیوں؟ کیونکہ میں جانتا ہوں یاسر پیرزادہ کو لاہور سے عشق ہے‘ یہ لاہور نہیں چھوڑنا چاہتا تھا لیکن اسے لاہور چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تھا‘ اس کے پاس صرف ایک آپشن تھااور یاسر پیرزادہ نے لاہور چھوڑ کر وہ آپشن لے لیا‘یہ راز کیا راز ہے‘ یہ میں آپ کو پھر کبھی بتاؤں گا‘ سردست صرف اتنا کہنا ہے یاسر پیرزادہ اسلام آباد شہر کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں‘ یہ مزید بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں‘ اللہ کرے یہ کرتے رہیں‘ کرتے رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں