جوتے

  پیر‬‮ 23 جون‬‮ 2014  |  23:30

نعش جوتوں اور کپڑوں سے پہچانی گئی‘ سیاہ رنگ کے بوٹ کی آب و تاب ابھی تک باقی تھی‘ تلوے کے ایک کونے میں مگرمچھ کی تصویر بھی موجود تھی اور بکل کی سنہری نکل بھی قائم تھی‘ کمپنی کا دعویٰ سچ نکلا‘ جوتوں کی شان و شوکت تیس برس بعد بھی قائم رہی‘ سوئٹزرلینڈ کی کمپنی دنیا کے صرف ایک ہزار خاندانوں کیلئے جوتے بناتی تھی‘ جوتوں کے تلوے نیوزی لینڈ کی گائے کے چمڑے سے بنائے جاتے تھے‘یہ سنہری چمڑے اور نیلے سینگوں والی گائے ہے اورد نیا کے کسی دوسرے خطے میں گائے کی یہ قسم نہیں ملتی۔ جوتے کی ’’ٹو‘‘ برازیل کے مگرمچھوں کی جلد سے بنائی جاتی ہے ‘ جوتے کا ’’کوّا‘‘ افریقہ کے سیاہ ہاتھیوں کے کانوں کے چمڑے سے تیار کیا جاتا تھااور


جوتے کے اندر ہرن کے نرم چمڑے کی تہ چپکائی جاتی تھی اور پیچھے رہ گیا دھاگہ تو ان جوتوں کیلئے بلٹ پروف جیکٹ میں استعمال ہونے والے دھاگے استعمال کئے جاتے تھے۔ کمپنی کا دعویٰ تھا پچاس برس تک جوتے کی پالش خراب نہیں ہوتی جبکہ مٹی میں دفن ہونے کے ایک سو سال بعد تک جوتے کی آب وتاب برقرار رہتی ہے۔ افغانستان کا بادشاہ ظاہر شاہ اس کمپنی کا ممبر تھا‘ ظاہر شاہ جلا وطن ہوا تو سردار داؤد نے اس کمپنی کی ممبر شپ لے لی اور اس کے بعد اس نے ہمیشہ اس کمپنی کا جوتا استعمال کیا یہاں تک کہ جب 1978ء کو اسے خاندان کے ساتھ قتل کر دیا گیا اور قتل کے بعد اس کی نعش جیپ کے ساتھ باندھ کر کابل شہر میں گھسیٹی گئی تواس وقت بھی اس نے یہی جوتا پہن رکھا تھا۔ وہ ایک بدقسمت حکمران تھا‘ اسے مرنے کے بعد غسل‘ کفن اور جنازہ نصیب نہیں ہوا تھا‘ لوگوں نے دو بڑی بڑی قبریں کھودی تھیں اور اسے اس کے خاندان کے 30افراد کے ساتھ ان میں سے کسی ایک قبر میں دفن کر دیا تھا‘ اس کے خاندان کے کسی فرد کا جنازہ نہیں پڑھا گیا تھا‘وہ تیس برس تک اس قبر میں پڑا رہا لیکن 26جون 2008ء کو ایک اتفاقی کھدائی کے دوران یہ دونوں قبریں دریافت ہوئیں اور یوں جوتوں کے باعث اس کی نعش شناخت کر لی گئی‘ یہ جوتوں کے ذریعے شناخت ہونے والی دنیا کی پہلی نعش تھی اوردنیا کو پہلی بارجوتوں نے بتایا ان کا مالک جنرل سردار محمد داؤد خان تھا۔ سردار محمد داؤد خان افغانستان کے شاہی خاندان محمد زئی سے تعلق رکھتا تھا‘ وہ 18جولائی 1909ء کو پیدا ہوا‘ اس نے ابتدائی تعلیم جلیلی سکول کابل‘ ثانوی تعلیم امینیہ کالج اور اعلیٰ تعلیم فرانس سے حاصل کی‘وہ سینٹ کرائی ملٹری اکیڈمی کا گریجوایٹ تھا‘اس نے واپسی پرافغان فوج جوائن کی اور 24برس کی عمر میں میجر جنرل بنا دیا گیا۔وہ 1932ء میں محض 25سال کی عمر میں صوبہ ننگر ہار کا جی او سی بن گیا‘ 1935ء میں وہ قندھار کا جی او سی بنا اور اسی سال اسے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر پروموٹ کر دیا گیا‘ وہ دنیا کا کم عمر ترین جنرل تھا۔ 1946ء میں اسے یونیفارم کے ساتھ وزیر دفاع بنا دیا گیا‘ وہ پیرس‘ برن اور برسلز کیلئے سفیر بھی بنایا گیا اور اسی دوران افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ نے اسے اپنی ہمشیرہ شہزادی زینب کا رشتہ بھی دے دیا۔وہ 1952ء میں شاہ کے ذاتی ایلچی کی حیثیت سے سوویت یونین کے صدر مارشل سٹالن کی تدفین کیلئے ماسکو گیا اور یہاں سے اس کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا۔ وہ روسی حکمرانوں اور کے جی بی کا منظور نظربنا اور اس نے اس کی پشت پناہی کا آغاز کردیا۔ ستمبر 1953ء کو شاہ نے اسے افغانستان کا وزیراعظم بنادیا‘ وہ دنیا کا یونیفارم میں پہلا وزیراعظم تھا‘ وہ وزیراعظم بھی تھا‘ وزیردفاع بھی اور آرمی چیف بھی۔ اس نے وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی اپنے بھائی سردار محمد عظیم کو افغانستان کا وزیرخارجہ بنا دیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک کے اختیارات اپنے قبضے میں لے لئے‘وہ سوویت یونین کا فکری حلیف تھا چنانچہ اس نے روس کے کہنے پر پاکستان میں پشتونستان کی تحریک شروع کرا دی‘ظاہر شاہ سردار داؤد کے عزائم اور طالع آزما فطرت کوپہچان گیا چنانچہ اس نے 3مارچ 1963ء کو اس سے استعفیٰ لے لیا جس کے بعد سردار داؤد نے شاہ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں‘ شاہ کو اطلاع ملی تو اس نے یکم اکتوبر 1964ء کو افغانستان کا آئین بدل دیا جس کی رو سے اب افغانستان کے شاہی خاندان کا کوئی رکن سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا تھا۔شاہ نے سردار داؤد کا راستہ روکنے کا بندوبست تو کر دیا لیکن وہ یہ بھول گیا دنیا کا مضبوط سے مضبوط ترین آئین بھی فوج کا راستہ نہیں روک سکتا چنانچہ 17جولائی 1973ء کو ظاہر شاہ علاج کے سلسلے میں اٹلی گیا اور پیچھے سے سردار داؤدنے شاہ کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں مارشل لگا دیا‘اس نے 1964ء کا آئین منسوخ کیا‘ افغانستان کو جمہوریہ افغانستان کا نام دیا اوربیک وقت افغانستان کا صدر‘ وزیراعظم اور سنٹرل کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا‘اس نے 28جولائی کو پارلیمنٹ بھی توڑ دی اور وہ ملک کا مطلق العنان حکمران بن گیا۔ وہ ایک روشن خیال اوراعتدال پسند شخص تھا‘ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں پردے اور داڑھی پر پابندی لگا دی‘ اس نے زنانہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ لازمی قرار دے دی‘ مسجدوں پر تالے لگوا دئیے اور ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں شراب خانے اور ڈسکو کلب بنوائے ‘سردار داؤد کے دور میں کابل دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے عیاشی کا اڈہ بن گیا‘اس دور میں ’’یورپ‘‘ کابل سے شروع ہوتا تھا‘ کابل کے بعد تہران عیاشی کا دوسرا اڈہ تھا‘استنبول تیسرا اور اس کے بعد پورا مشرقی یورپ عیاشوں پر کھل جاتا تھا۔ سردار داؤد نے پورے ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں عقوبت خانے بھی بنا رکھے تھے‘ خفیہ اداروں کے اہلکار اس کے مخالفین کو دن دیہاڑے اٹھا لے جاتے تھے اور اس کے بعد کسی کو ان کا نام اورپتہ تک معلوم نہیں ہوتا تھا۔ سردار داؤد کے زمانے میں تیس ہزار کے قریب لوگ ’’مسنگ پیپل‘‘ کہلائے اور ان لوگوں کے لواحقین کو بعدازاں ان کی قبروں کا نشان تک نہ ملا۔جنوری 1974ء کو اس کے خلاف ایک چھوٹی سی بغاوت ہوئی لیکن اس نے تمام باغیوں کے سر قلم کرا دئیے‘ ایک طرف اس کے مظالم جاری تھے اور دوسری طرف وہ عالمی میڈیا کو ایک جمہوریت پسند اور روشن خیال لیڈر کا چہرہ پیش کررہا تھا۔ اس نے روس کے ساتھ ساتھ مغرب کے ساتھ بھی تعلقات استوار کئے‘ 27فروری 1977ء کو اس نے ملک کو نیا آئین دیا‘ ملک میں صدارتی طرز حکومت اور یک جماعتی نظام قائم کردیا اور یہ وہ وقت تھا جب اس کا اعتماد آسمان کو چھونے لگا‘اس نے مارچ 1977ء کو نئی کابینہ بنائی اور اس کابینہ کے سارے عہدے اپنے خاندان اور دوستوں میں تقسیم کر دئیے‘ اس وقت تک ملک میں اس کے خلاف لاوا پک چکا تھا چنانچہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں خلق اور پرچم پارٹی اس کی مخالف ہو گئیں‘ ملک میں ہنگامے‘ سیاسی قتل وغارت گری اور مظاہرے شروع ہوگئے۔ وہ ظالم انسان تھا لہٰذا اس نے اپنی عادت کے مطابق مخالفین کو قتل کرانا شروع کردیا‘اس نے 17اپریل 1978ء کو اپنے سب سے بڑے مخالف کیمونسٹ لیڈر میر اکبر خان کو قتل کرا دیا اور یہ وہ قتل تھا جس نے سردار داؤد خان کے خلاف نفرت کو ایک نقطے پر جمع کر دیا اور میر اکبر کے قتل کے محض دس دن بعد 27اپریل کو سردار داؤد کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور فوج نے اسے ‘اس کے بھائیوں‘ بیویوں‘ بیٹیوں‘ پوتوں اور پوتیوں کو گولی مار دی‘ اس بغاوت میں اس سمیت اسکے خاندان کے 30افراد ہلاک ہو گئے‘داؤد کی نعش کو جیب کے ساتھ باندھا گیا اور کابل شہر میں گھسیٹاگیا‘داؤد کی نعش جس جگہ سے گزرتی تھی لوگ اس پر تھوکتے تھے اور اسے ٹھڈے مارتے تھے‘شام کو جب نعش کا سفر مکمل ہوا تو اسے جنارے‘ غسل اور کفن کے بغیر خاندان کی دوسری نعشوں کے ساتھ اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔ یوں سردار محمد داؤد خان کی نعش 30برس تک ایک گمنام قبرمیں پڑی رہی لیکن پھر 26جون 2008ء کو کھدائی کے دوران کابل شہر میں دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں‘ دونوں قبروں میں سولہ‘ سولہ نعشیں تھیں‘ ان نعشوں میں سے ایک نعش کے پاؤں پر مگرمچھ کی کھال کا جوتا تھا‘جوں ہی جوتے پر پڑی خاک جھاڑی گئی اسکی پالش چمکنے لگی اور یوں اس جوتے نے یہ راز فاش کردیا اورسردار داؤد کی نعش سامنے آگئی۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو میں نے کانوں کو ہاتھ لگایااوراللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کی ۔اللہ تعالیٰ کا نظام بھی کیسا عجیب ہے‘ وہ جب کسی ظالم سے نفرت کرتا ہے تو اس کی قبر کی بھی بخشش نہیں ہوتی اور ظالم کے مرنے کے 30برس بعد اس کی سزا ختم نہیں ہوتی‘ بے شک ظالم پورے ملک کو اپنے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں لیکن یہ لوگ وقت کو شکست نہیں دے سکتے۔ یہ اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے اور جب اللہ کسی سے نفرت کرتا ہے وہ جوتوں کو اسکی نعش کا حوالہ اور قبر کا کتبہ بنا دیتا ہے۔ وہ اسے مرنے کے بعد بھی مرنے نہیں دیتا۔