جوتا ماری کا عالمی دن

  اتوار‬‮ 22 جون‬‮ 2014  |  23:07

کیلنڈر میں 365 دن ہیں اور ان 365 دنوں میں سے 162 روز کسی نہ کسی واقعے کی مناسبت سے خصوصی دن کہلاتے ہیں‘ کوئی دن ویلنٹائن ڈے کہلاتا ہے ‘ کوئی مدرز ڈے‘ کوئی فادرز ڈے‘ کوئی نیو ائیر ڈے‘ کوئی کرسمس ڈے‘ کوئی لیبر ڈے‘ کوئی میڈیا ڈے اور کوئی چائلڈ لیبر ڈے وغیرہ وغیرہ لیکن 14 دسمبر 2008ء کو بغداد میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا اور مجھے توقع ہے‘اس واقعے کی مناسبت سے اگلے سال پوری دنیا میں 14 دسمبر منایا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی خصوصی ایام میں شوز ڈے یا جوتا ماری کے خصوصی دن کا اضافہ بھی ہو جائے گا۔ میں نے گزشتہ رات پوری دنیا کے ساتھ اس دن کی بنیاد پڑتے دیکھی‘ بغداد کے انتہائی سیکورٹی زون کے انتہائی


محفوظ محل کے انتہائی ’’ سکیور‘‘ ہال میں عراق کے وزیراعظم نور المالکی اور دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر جارج بش راسٹرم پر کھڑے تھے‘ صدر بش عراق کے الوداعی دورے پر بغداد تشریف لائے تھے‘ ان دونوں کے سامنے عراق کے بڑے بڑے صحافی بیٹھے تھے‘ صدر بش میڈیا سے خطاب کرتے ہیں‘ اس کے بعد عراقی وزیراعظم کی طرف شفقت سے دیکھتے ہیں‘ اسی دوران ہال میں موجود ایک صحافی اپنا جوتا اتارتا ہے اور پوری قوت سے یہ جوتا صدر بش کی طرف اچھال دیتا ہے‘ صدر بش فوراً جھک جاتے ہیں اور جوتا ان کے دائیں کندھے کے قریب سے گزر جاتا ہے‘ ہال میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے‘ سیکورٹی گارڈز آگے بڑھتے ہیں لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے دوسرا جوتا بھی ہوا میں تیرتا ہوا صدر بش کی طرف بڑھتا ہے اور ان کے سر سے ہوتا ہوا امریکی جھنڈے سے جا ٹکراتا ہے‘ اس کے ساتھ ہی صحافی چلا کر کہتا ہے ’’ کتے یہ تمہارے لئے الوداعی بوسہ ہے‘‘عراقی میڈیا کی طرف سے دیئے گئے اس اعزاز کے بعد صدر بش خجالت سے کیمروں کی طرف دیکھتے ہیں اور کھسیانی آواز میں بولتے ہیں ’’ میرا خیال ہے یہ دس نمبر کا جوتا تھا‘‘ صدر بش پر یہ دہشت گردانہ حملہ عراق کے ایک ٹیلی ویژن چینل کے رپورٹر منتظر الزیدی نے کیا تھا اور اس حملے کے بعد وہ نہ صرف پوری دنیا میں مشہور ہوگیا بلکہ کیوبا سے لے کر ایران تک دنیا کے 145 غریب ممالک نے اسے ہیرو کا درجہ بھی دے دیا۔منتظر الزیدی واقعی ہیرو ہے یا اس کی یہ حرکت دہشت گردی کی نئی شکل تھی اس کا جواب تو ہم وقت پر چھوڑ دیتے ہیں لیکن یہ بات طے ہے منتظر الزیدی نے 14 دسمبر کو ایک نئی شناخت دے دی ‘ آج سے یہ دن جوتا ماری کا عالمی دن کہلائے گا۔ دنیا میں ظالم ہو یا مظلوم تمام لوگ مر جاتے ہیں لیکن جوتا ماری جیسے واقعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب بڑی بڑی شخصیات اس قسم کے واقعات سے یاد رکھی جاتی ہیں مثلاً آپ شاہ ایران کی مثال لے لیجئے‘شاہ 1980ء میں قاہرہ میں انتقال کر گیا لیکن اس سے منسوب ایک واقعہ آج تک زندہ ہے‘ شاہ کے دور میں شاہی محل میں مکھیاں مارنے کا ایک محکمہ ہوتا تھا‘ اس محکمے میں ایک ہزار ملازمین تھے‘ ان ملازمین کے ہاتھوں میں چار فٹ کی ایک چھڑی ہوتی تھی جس کے سرے پر کپڑے کی ایک نرم گدی ہوتی تھی ‘یہ ملازمین شاہی محل میں گھومتے پھرتے رہتے تھے اور انہیں جہاں کہیں کوئی مکھی نظر آتی تھی وہ چھڑی کے ذریعے اس مکھی کو مارتے تھے اور اسے مخمل کی تھیلی میں ڈال کرکوڑادان میں پھینک دیتے تھے‘انقلاب ایران سے ایک دن پہلے کا واقعہ ہے‘ شاہ محل سے باہر نکل رہا تھا‘ راستے میں ایک مکھی مار ملازم کھڑا تھا‘ شاہ تھکے تھکے قدموں سے محل کے کوری ڈور میں چل رہا تھا‘ شاہ کے سارے محافظ‘ سارے سیکرٹری اور سارے ذاتی ملازم محل سے فرار ہو چکے تھے اور شاہ دنیا کی اس بے ثباتی پر انتہائی مغموم اور اداس تھا‘ وہ چلتے چلتے اس مکھی مار کے قریب پہنچاتو مکھی مار نے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا‘ مکھیاں مارنے والی چھڑی اٹھائی ‘ہوا میں لہرائی اور شاہ کی گردن پر دے ماری‘شاہ کے منہ سے چیخ بلند ہوئی اور اس نے گھبرا کر مکھی مار کی طرف دیکھا‘ مکھی مار نے شاہ کی طرف حقارت سے دیکھا اور اونچی آواز میں بولا ’’میں نے اس چھڑی سے اب تک تین سو دس مکھیاں ماری ہیں‘ تم مجھے اس وقت مکھی نظر آ رہے ہو‘ کاش تم اس چھڑی کے تین سو گیارہویں شکار ہوتے‘‘ شاہ نے بے بسی کے عالم میں اس کی طرف دیکھا‘ واپس مڑا اور چپ چاپ باہر نکل گیا‘ انقلاب کے بعد اس مکھی مار ملازم اوراس کی چھڑی کو تہران کے سٹیڈیم میں لایا گیا‘سٹیڈیم میں موجود لوگوں کو چھڑی دکھائی گئی اوراس کے بعد اعلان کیا گیا ’’یہ دنیا کی واحد چھڑی ہے جس سے شاہ کی پٹائی ہوئی تھی‘ ہم آج یہ چھڑی نیلام کرنا چاہتے ہیں‘ جو جوصاحب اس تاریخی چھڑی کو خریدنا چاہے وہ بولی دے اور یہ نادر چھڑی گھر لے جائے‘‘ اس کے بعد اس چھڑی کی بولی لگی اور ایران کے ایک تاجر نے وہ چھڑی دو لاکھ تمن میں خرید لی۔ آپ کویاد ہو گا 7اپریل2008ء کو سندھ اسمبلی میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا تھا‘کراچی کے ایک گستاخ شخص نے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو اسمبلی کے کوریڈور میں جوتادے مارا تھا‘ یہ جوتا بھی بعد ازاں نیلامی کیلئے پیش ہوا تھا اور سانگھڑ کے ایک صاحب نے یہ جوتا بیس لاکھ روپے میں خرید لیا تھا۔ جوتا کھانے کا ایک واقعہ ہمارے ماضی کے ایک چیف جسٹس کے ساتھ بھی پیش آیا تھا‘ یہ جج صاحب پی سی او پر حلف لینے کے بعد امریکہ گئے اور ان کے ایک دوست انہیں کسی انڈین ریسٹورنٹ میں کھانا کھلانے کیلئے لے گئے‘ وہاں ایک پاکستانی گاہک نے جج صاحب کو پہچان لیا‘وہ ان کے قریب گیا‘ اس نے اپنا جوتا اتارا اور انہیں دے مارا‘ یہ جوتا بھی بعد ازاں نیویارک میں فروخت ہوا ‘ ایک دوسرے پاکستانی نے یہ جوتا پانچ ہزار ڈالر میں خریدا ‘ جج صاحب کی تصویر کے ساتھ اسے فریم کروایا اور اپنے ڈائننگ روم میں لٹکا دیا‘ مجھے یقین ہے منتظر الزیدی کے یہ دونوں جوتے بھی عنقریب بولی کیلئے پیش ہوں گے اور کوئی شوقین مزاج رئیس ایک دو لاکھ ڈالر میں یہ تاریخی جوتے بھی خرید لے گا۔ 14 دسمبر کے اس واقعے نے دنیا میں دہشت گردی کی ایک نئی تکنیک متعارف کرا دی ہے‘جس کے بعد اب دنیا بھر کا میڈیا بھی مشکوک ہو گیا ہے اور جوتے بھی تابکاری کی شکل اختیار کر گئے ہیں چنانچہ اب دنیا کے تمام بڑے صدور اور وزرائے اعظم صحافیوں اور اپنے درمیان اتنا فاصلہ ضرور رکھیں گے کہ اگر صحافت کا کوئی اسامہ بن لادن ان کی طرف جوتا پھینکنا چاہے تو وہ اس سے محفوظ رہ سکیں۔ میرا مشورہ ہے آج سے دنیا کے وی وی آئی پیز اور صحافیوں کے درمیان باریک جال لگا دیا جائے تا کہ اگر آئندہ کوئی صحافی جوتا پھینکنے کی کوشش کرے تو اس کا جوتا صدر محترم تک پہنچنے کی بجائے جال میں الجھ جائے اور یوں یہ لوگ خفت سے بچ جائیں۔میں پاکستانی حکومت کو بھی ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں ‘ہم لوگ کیونکہ امریکی روایات پر دنیا میں سب سے پہلے عملدرآمد کے عادی ہیں‘ امریکہ اگر ائیرپورٹس پر تلاشی شروع کرتا ہے تو ہم بھی فوری طور پر تلاشی کا عمل شروع کر دیتے ہیں‘ امریکہ میں اگر مائع اشیاء کو ہوائی جہازوں میں لے جانے پر پابندی لگتی ہے تو ہم بھی اپنی فلائیٹس میں پرفیومز اور کاسمیٹکس ’’ بین‘‘ کر دیتے ہیں اور امریکہ اگر پاکستان سے مشکوک افراد کی فہرست منگواتا ہے تو ہم احتیاطاً تمام مشکوک لوگوں کو گرفتار کر لیتے ہیں چنانچہ ہمیں اس ناخوشگوار واقعے کے فوراً بعد پریس کانفرنسوں اور پریس بریفنگز کے دوران جوتے پہننے پر پابندی لگا دینی چاہیے‘پاکستان میں جو بھی صحافی پریس کانفرنس میں شامل ہو سب سے پہلے اس کی جوتا اتروائی کی رسم ادا کی جائے اور اس کے بعد اسے کسی وی آئی پی کے سامنے لے جایا جائے کیونکہ پاکستان میں بے شمار طالبان صحافی بھی موجود ہیں اور یہ لوگ پندرہ پندرہ کلو کے بارہ بارہ نمبر کے جوتے پہنتے ہیں اور اگر پاکستانی صحافیوں نے عراقی جرنلسٹوں کی پیروی شروع کردی تو عزت کی تو خیر کوئی بات نہیں یہ آنے جانے والی چیز ہے لیکن دہشت گردی کے ان نئے آلات سے کسی بھی قیمتی انسان کی جان جا سکتی ہے۔