”کورونا کئی خطرناک وائرسز میں سے ایک“ معروف چینی محقق کے کئی ماہ سے منظر سے غائب رہنے کے بعد اہم انکشافات

  بدھ‬‮ 27 مئی‬‮‬‮ 2020  |  16:35

بیجنگ (این این آئی)چین کی معروف ورولوجسٹ نے کئی ماہ سے منظر سے غائب رہنے کے بعد سرکاری ٹی وی کو پہلے انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ کورونا کئی خطرناک وائرسز میں سے ایک ہے جبکہ اس معاملے میں سائنس کو سیاست زدہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔شی زینگ لی کے، جو چمگادڑوں اور اس سے منسلک وائرسز پر تحقیق کی وجہ سے”بیٹ ویمن“ کے نام سے پہچانی جاتی ہیں،پراسرار طور پر غائب ہونے کے باعث ووہان کی لیبارٹری سے کورونا وائرس کے جنم لینے کی افواہیں سامنے آئی تھیں۔ شی زینگ لی نے رواں ماہ کے اوائل


میں چینی سوشل میڈیا ”وی چیٹ“ اکاؤنٹ پر مغرب کی طرف جھکاؤ اور ملک سے غداری کرنے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے اپنی حالیہ زندگی کی تصاویر شیئر کی تھیں۔ چین کے سرکاری ٹیلی ویژن”سی جی ٹی این‘ کو انٹرویو کے دوران انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان الزامات کا بلاواسطہ حوالہ دیا جن میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولوجی (ڈبلیو آئی وی) میں بنایا گیا، شی زینگ لی چمگادڑوں پر تحقیق کی سربراہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر ریسرچرز کے گروپ نے 30 دسمبر کو کورونا وائرس کے نمونے حاصل کیے اور ان پر تحقیق کی۔ان کا کہنا تھا کہ مختصر عرصے میں ہم یہ جان چکے تھے کہ ان نمونوں میں نئی قسم کا کورونا وائرس ہے، جس کے بعد ہم نے مزید تحقیق کی اور یہ بات مسلمہ ہوگئی جس کے بعد ہم نے اسے ”نوول کورونا وائرس“ کا نام دیا۔


موضوعات: