کرونا وائرس کیخلاف کونسی ویکسین گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے ؟ امریکی ماہرین کے ہاتھ نسخہ لگ گیا ، کلینکل ٹرائلز شروع ہو گیا

  پیر‬‮ 6 اپریل‬‮ 2020  |  21:20

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی میں ہونیوالی نئی تحقیق میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے جن ممالک میں بچپن سے ٹی بی یا تپ دق سے بچائو کیلئے ویکسین دی گئی ان ملکوں میں کرونا وائرس کے کیسز اور اموات کی شرح کم ہے ۔ امریکی ماہرین کے مطابق بچپن میں جن افراد کو ٹی بی ویکسین بَسیلس کالمیٹ گیورین (بی سی جی) کورونا وائرس (کووِڈ 19) سے بچانے اہم مددگا ر ثابت ہو رہی ہے ۔نیو یارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بائیومیڈیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر گونزالو اوٹازو نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے کیسز اور اموات کی شرح ان


ممالک میں زیادہ ہے جہاں یہ ویکسین اب استعمال میں نہیں آتی ۔ ان ممالک میں اٹلی ، امریکا سمیت نیدر لینڈ شامل ہیں ۔ اس کے مقابلے میں جن ممالک میں ٹی بی کی ویکسین کا استعمال آج بھی ہو رہا وہاں اموات کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ ماہرین نے مزید کہا ہے کہ ایسے ممالک جہاں ٹی بی کی ویکسین کا استعمال دیر سے ہوا وہاں شرح اموات زیادہ ہےاوریہ ویکسین ایسے بزرگ افراد کو تحفظ فراہم کررہی ہے جن کو بچپن میں یہ ویکسین استعمال کرائی گئی ہے ۔ خیال رہے کہ بَسیلس کالمیٹ گیورین نامی ویکسین نومولود اور کم عمر بچوں کو ٹی بی سے بچاؤ کے لیےآج بھی دی جاتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے ٹی بی کی ویکسین کورونا کے علاج کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے اور بعض ممالک میں بی سی جی ویکسین کے کلینکل ٹرائلز شروع کرنے کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔


موضوعات: