امریکہ ، طالبان امن معاہدہ کوشدید خطرہ، فریقین کی بیان بازی نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

  پیر‬‮ 6 اپریل‬‮ 2020  |  13:49

کابل(آن لائن) افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی امن معاہدے کی خلاف وزری کے مرتکب ہو رہے ہیں جبکہ امریکہ نے طالبان کے دعوی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ معاہدے کی پابندی کر رہا ہے. طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ طالبان معاہدے کے تحت پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی ہونی تھی لیکن مختلف بہانوں کی وجہ سے طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔بیان کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہونے کے باوجود طالبان نے امریکہ کے ساتھ


طے پانے معاہدے کے بعد افغانستان کے بڑے شہروں میں واقع کابل حکومت کے فوجی مراکز پر حملے نہیں کیے ہیں،طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال طالبان کی حملوں میں کمی ہوئی ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی اور افغان فورسز نے معاہد ے کے بعد بھی طالبان کے خلاف مبینہ حملے جاری رکھے ہیں بلکہ طالبان کے زیر کنڑول علاقوں میں بھی سول اہداف کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے،طالبان نے کہا کہ طالبان کے عسکریت پسندوں کو ان علاقوں میں فضائی کارروائی سے نشانہ بنایا گیا جہاں وہ لڑائی میں مصروف نہیں ہیں، جن میں ہلمند، قندھار، فرح، قندوز، ننگرہار، پکتیا، بدخشان اور بلخ کے علاقے شامل ہیں. طالبان نے تنبیہ کی کہ اگر ایسی خلاف ورزیاں جاری رہی تو اس کی وجہ سے بداعتمادی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے جس سے ناصرف معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ردعمل میں طالبان کی کارروائیوں سے لڑائی میں شدت آئے گی طالبان نے امریکہ سے قطر میں طے پانے والے معاہدے کی پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنی اتحادی افغان حکومت سے بھی اس معاہدے کی پاسداری کرنے کا کہے،ادھر امریکہ نے طالبان کے دعویٰ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فورسز امریکہ طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پوری طرح پابندی کر رہی ہیں ۔افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک ترجمان سونی لیگٹ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اس بارے میں واضح ہے کہ معاہدے کے تحت وہ اپنی شراکت دار افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے کی صورت میں ان کا دفاع کریں گی،کرنل لیگٹ نے طالبان سے تشدد میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کی خواہش ہے کہ تشد دمیں کمی ہو تاکہ افغان تنازع کے سیاسی تصفیے کی طرف پیش رفت کی جا سکے کرنل لیگٹ نے کہا کہ امریکہ تمام افغان فریقوں پر ایک بار پھر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی توجہ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے پر مرکوز رکھیں.یاد رہے کہ امریکہ طالبان معاہدے کے تحت طالبان نے افغانستان میں تعینات امریکی فورسز کے خلاف اپنے حملے روک دیے ہیں، لیکن افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف ان کی عسکری کارروائیاں جاری ہیںطالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک بین الافغان مذاکرات کے نتیجے میں امن معاہدے کے تحت جنگ بندی کا معاہدہ طے نہیں پا جاتا، وہ افغان حکومت کے فوجی ہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں،یادر ہے کہ فروری کے آخر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ طالبان معاہدے کے تحت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے بعد بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا معاہدے کے تحت افغان حکومت نے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے بھی افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرنے ہیں ،اگرچہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے لیے رابطے جاری ہیں لیکن ابھی تک بعض معاملات پر اختلافات کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔


موضوعات: