شمالی کوریا پر عائد پابندیاں نہیں اٹھا رہے،جنوبی کوریا کی وضاحت

  جمعہ‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2018  |  11:25

سیؤل(انٹرنیشنل ڈیسک)جنوبی کوریا نے واضح کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر سے وہ پابندیاں اٹھانے پر غور نہیں کر رہا جو 2010ء میں جنوبی کوریا کے ایک جنگی جہاز کو ڈبونے کے الزام پرعائد کی گئی تھیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون کی جانب سے یہ وضاحت ملکی پارلیمان کے ارکان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد سامنے آئی ۔رکانِ پارلیمان کو اس معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون نے واضح کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ جہاز ڈوبنے کے واقعے پر

شمالی کوریا کے اقدامات سے مشروط ہے۔جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔البتہ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ دونوں کوریاوں کے درمیان بات چیت اور وفود کے تبادلوں کا مخالف نہیں اور سول حکومت اس پیش رفت پر وشنگٹن ڈی سی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔لیکن چو میونگ گیون نے تسلیم کیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے کے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جو دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پایا تھا۔پابندیاں اٹھانے کا عندیہ جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کانگ کیونگ وہا نے بدھ کو دیا تھا۔ اپنے بیان میں وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک ان پابندیوں کا جائزہ لے رہا ہے جو 2010ء میں شمالی کوریا پر عائد کی گئی تھیں۔جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کی جانب سے ان پابندیوں کو اٹھانے کا عندیہ دینے کے بعد جنوبی کورین پارلیمان کے قدامت پسند ارکان نے سخت احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک نہیں اٹھائی جانی چاہئیں جب تک شمالی کوریا جہاز پر حملے کی معافی نہیں مانگ لیتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں