ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے دماغ کا چھپا ہوا حصہ دریافت کرلیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

آسٹریلیا (مانیٹرنگ ڈیسک)سائنسدانوں نے دماغ کے ایسے ننھے حصے کو دریافت کرلیا ہے جو صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے اور یہی انہیں دیگر جانداروں کے مقابلے میں منفرد بناتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس حیرت انگیز دریافت سے رعشے کے امراض (پارکنسن) اور موٹر نیورون امراض کے علاج میں مدد مل سکے گی۔ 30 سال سے اس تحقیق میں مصروف سائنسدانوں کو شک تھا کہ دماغ میں ایسا حصہ موجود ہے۔

مگر وہ دیکھنے سے قاصر تھے۔ نیورو سائنسز آسٹریلیا کے محققین نے دماغ کے اس چھپے ہوئے حصے کو دریافت کیا۔ انہوں نے اسے Endorestiform Nucleus کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دیگر جانداروں میں یہ کہیں نظر نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دماغ کے بڑے حجم سے ہٹ کر یہ حصہ انسانوں کو دیگر جانداروں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ حصہ دماغ اور اسپائنل کورڈ جنکشن کے قریب دریافت کیا گیا ہے، یہ وہ حصہ ہے جو سنسر اور موٹر انفارمیشن کو جوڑتا ہے جو کہ جسمانی توازن، کھڑے بیٹھنے کا انداز اور موٹر موومنٹ کا کام کرتا ہے۔ محققین کے خیال میں دماغ کا یہ دریافت ہونے والا حصہ فائن موٹر کنٹرول کے میکنزم کا حصہ ہے۔ اس دریافت سے محققین کو پارکنسن اور موٹرنیورون امراض کے علاج تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔ پارکنسن امراض میں مسلز اکڑ جاتے ہیں، حرکت سست، نیند متاثر، شدید تھکاوٹ اور زندگی کا معیار متاثر ہوتا ہے جو بتدریج معذوری کا باعث بن جاتا ہے۔ موٹرنیورون امراض میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے عصبی خلیات ٹھیک طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…