جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

شور کی آلودگی : دل اور خون کی بیماریوں کے پھیلنے کا باعث بنتی ہیں

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (WHO) نے آواز کی آلودگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ کرہ ارض پر پیدا ہونے والے شور کی وجہ سے دل اور خون کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ آلودگی کی ایک کئی ایک اقسام ہیں جن میں سے ایک قسم (نوائس پلوشن) یعنی شور سے پیدا ہونے والی آلودگی ہے، یہ انسانی صحت پر بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق کسی مصروف ترین شاہراہ پر دن کے وقت گاڑیوں کی آمدورفت اور ریل کے چلنے سے پیدا ہونے والی آواز کی حد 54 فیصد تک ہونا چاہیے۔ (یہ حد آواز ناپنے والے آلے سے لی گئی) ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں 54 فیصد شور کو اس طرح سمجھایا گیا ہے کہ کوئی شخص جب آہستہ آواز میں کسی دوسرے سے سرگوشی کرتا ہے تو اُس وقت آواز کی حد 30 فیصد ہوتی ہے جو قابل برداشت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ہیڈ فون لگا کر ہلکی آواز میں ریڈیو یا موبائل سے گانے سنے جائیں تو آواز کی شدت 50 فیصد ہوتی ہے جبکہ مختلف صنعتوں سے پیدا ہونے والی آواز 100 فیصد ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے شور کی حدود کا تعین کیا تاکہ شہریوں کو آلودگی اور صحت کے خطرات سے بچایا جاسکے۔ ڈبلیو ایچ او کی سفارشات میں رکن ممالک کی حکومتوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ شہری علاقوں میں ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے آوازوں کو اُسی حد تک رکھا جائے یا پھر اس سے کم کیا جائے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر سوزانا یاکب کے مطابق ’کرہ ارض پر بہت زیادہ شور کی وجہ سے انسان کے غصے اور پریشانیوں میں اضافہ ہوا اور نئی بیماریوں نےبھی جنم لیا جن میں دل اور خون کے کئی امراض شامل ہیں‘۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…