پیشاب ٹیسٹ کے حوالے سے اہم پیش رفت

  اتوار‬‮ 4 مارچ‬‮ 2018  |  10:00

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عام طور پر ماہرین صحت اب تک پیشاب ٹیسٹ سے صرف پیشاب اور اس سے منسلک جسمانی اعضاء کی بیماریوں کا پتہ لگاتے تھے، تاہم اب اس حوالے سے ایک پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ نئی پیش رفت خصوصی طور پر ان افراد کے لیے باعث فکر ہوگی، جو اپنی عمر کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتے ہیں اور خود کو جوان رکھنے کی غرض سے اپنی اصل عمر چھپاتے ہیں۔جی ہاں، اب ایسی خواتین و مرد جو درحقیقت ہوتے تو 50 سال کے ہیں، مگر خوبصورتی اور فٹنیس کی وجہ سے 25 سال کے دکھتے


ہیں، اس لیے وہ خود کو 25 سال چھوٹے بتاتے ہیں، تاہم اب وہ ایسا نہیں کر پائیں گے۔۔ کیوں کہ اب ان کے ایک ٹیسٹ سے ان کی اصل عمر کا پتہ لگانا ممکن بن گیا ہے۔ پیشاب کی نالی میں سوزش کی عام وجوہات ماہرین پیشاب کے ایک ٹیسٹ کرنے سے انسان کی اصل عمر کا پتہ لگانے کا طریقہ دریافت کرنے میں کامیاب گئے ہیں، تاہم ابھی یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ہیلتھ جرنل ’ہیلتھ لائن‘ کے مطابق چینی ماہرین نے ابتدائی طور پر جانوروں کے پیشاب ٹیسٹ سے ان کی اصل عمر کا پتہ لگانے کے بعد یہی تجربہ انسانوں پر کیا۔ پیشاب کی نالی میں سوزش کی 5 علامات ماہرین نے اس مقصد کے لیے 2 سال سے 90 سال کی عمر کے 1200 افراد کے پیشاب ٹیسٹ کیے، تاکہ ان کی اصل عمر کا پتہ لگایا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین نے جب ٹیسٹ کے نتائج دیکھے تو 21 سال سے بڑی عمر کے زیادہ تر افراد کی تحریری اور پیدائشی عمر میں فرق پایا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ماہرین نے 21 سال سے بڑی عمر کے افراد کی کاغذات میں درج عمر اور پیشاب ٹیسٹ میں آنے والی عمر میں کتنے سال کا فرق پایا، تاہم بتایا گیا کہ اس ٹیسٹ سے انسان کی پیدائشی عمر معلوم کرنا ممکن ہے۔ ساتھ ہی ماہرین نے یہ بھی خیال کیا ہے کہ اس ٹیسٹ سے ایسی بیماریوں کا پتہ بھی لگایا جاسکتا ہے، جو انسان کو پیدائش کے بعد مختلف اوقات میں ہوتی رہیں۔پیشاب کی نالی میں سوزش سے بچنا آسان تاہم ماہرین کے مطابق پیشاب ٹیسٹ سے بائیولاجیکل بیماریوں کی تاریخ کا پتہ لگانے کے طریقے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے، کیوں کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم امکان ہے کہ اس میں بھی کامیابی ہوگی۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں عمر اور جسمانی خدوخال کے تعلقات کو بھی مفروضہ قرار دیا، اور کہا کہ لازمی نہیں ہے کہ جس شخص کے جسم میں جھریاں پڑجائیں وہی عمر رسیدہ ہو۔

موضوعات:

loading...