جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

بھارت میں متنازعہ قانون پرخاموشی مظاہرین نے شاہ رخ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں مسلم مخالف متنازعہ قانون پرخاموشی اختیارکرنے پربالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان کے مداح ایک بارپھر ان کے خلاف میدان میں آگئے ہیں اور شاہ رخ خان کوان کے ہی ہِٹ گانے کی مدد سے تنقید کا نشانہ بنادیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق متنازعہ قانون کے خلاف بہت سے اداکاروں نے لب کشائی نہیں کی جن میں سر فہرست بالی ووڈ خانزہیں جنہیں ان کے اس دوغلے پن پر

پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ایک بارپھرنئی دہلی کے شاہین باغ میں متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرین نے شاہ رخ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اداکارکو ان کی بلاک بسٹر فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کے معروف گانے ’تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم‘ کی مدد سے تنقید کا نشانہ بنایا جو دیکھتے دیکھتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔مظاہرین نے گانا کچھ اس اندازمیں پڑھ کرسنایا،تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم،شاہ رخ ہوگیا بے گانا صنم،یہ تو یقین آتا نہیں،کیا کہوں میں کیا نہ کہوں،تو سامنے دیکھتا رہا، ہم یہاں پِٹتے رہے،ہم نے آواز دی پر تْو آیا نہیں،تجھ کو دی ہے یہ کس نے قسم۔واضح رہے کہ بالی ووڈ کے بڑے بڑے اداکاروہدایتکاراس معاملے پر نہ صرف آواز اٹھا چکے ہیں بلکہ مودی حکومت پرشدید تنقید بھی کرچکے ہیں تاہم بالی ووڈ خانز کی جانب سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔یاد رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے شہریت کے متنازع بل کے تحت 3 ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن جن میں ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جین اوربدھ مت شامل ہیں انہیں بھارت کی شہریت دی جائیگی تاہم مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم رکھا جائیگا۔‎



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…