منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ٹیکس جمع کرنیوالے اداروں میں اصلاحات ،انکی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے : ٹیکس ماہرین

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی)حکومت کی جانب سے کڑے احتساب کا نعرہ اور کسی کو این آر او نہ دینے کا اعلان خوش آئند ہے ،بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے غریب کو زندہ درگور کرنے کی بجائے ٹیکس جمع کرنے والے اداروں میں اصلاحات اور ان کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے ۔سابق وزیر

خزانہ ضیاء حیدر رضوی،سابق صدر پاکستان ٹیکس بار ذوالفقار خان ، ٹیکس ماہرین عامر قدیر ، نعیم خان ، مامون نثار،ملک ہارون احمد، عائشہ قاضی ، افتخار قاضی، رانا آصف ، علی حسن رانا ،میاں عبدلغفار، خواجہ ریاض حسین، اجمل خان اور اے ایس جعفری نے ’’ ٹیکسیشن نظام ‘‘کے حوالے منعقدہ مذاکراے میں کہا کہ حکومت 100 روز کے پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنالے تو یہ اس کی بہت بڑی جیت ہو گی ۔سب سے پہلے اداروں اور منصوبوں کاآڈٹ کیا جاتا توحکومت کے لئے بیوروکریسی کو سمجھنا آسان مرحلہ ہوتا ۔حکومت کی جانب سے کڑے احتساب اور کسی کو این آر اونہ دینے کا واضح اعلان خوش آئند ہے۔ ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کئی دہائیوں سے صرف نعرے اوردعوے سنتے آرہے ہیں اب عوام نتائج چاہتے ہیں ۔ملک سے لوٹی ہوئی تمام دولت واپس لانے کی فوری ا مید کرنا درست نہیں بلکہ ملکی معاشی اقتصادی ترقی کیلئے ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینا وقت کی اشد ضرورت ۔ حکومتی ادارے جو سالانہ 600ارب روپے خسارہ کر رہے ہیں توجہ طلب ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…