بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

محمد علی سدپارہ نے اپنی زندگی میں کس خواہش کا اظہار کیا تھاجو ان کی موت کے بعد پوری ہوئی ؟‎

datetime 19  فروری‬‮  2021 |

بہاولنگر(این این آئی ) کوہ پیمائی کے شوق میں جان قربان کرنیوالے محمد علی سدپارہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا محمد علی کو مختلف انداز میں لوگ خراج تحسین پیش کررہے ہیں محمد علی نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میرا برف میں میرا مسکن بنے ان کی یہ خواہش ان کی موت نے پوری کردی دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنیوالے محمد علی دوران کوہ پیمائی راستہ بھول

جانے کی وجہ سے برف میں دب کر زندگی کی بازی ہار گئے گزشتہ روز جب ان کے مرنے کی اطلاع نشر ہوئی تو سوشل میڈیا پر انہیں مختلف انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کے ٹو پر لاپتہ پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے والد کی موت کی تصدیق کردی۔ گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر خان اور علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے پریس کانفرنس کی جس میں ساجد سدپارہ نے اپنے والد کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کی۔ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اور ان کا خواب پورا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور عسکری ایوی ایشن کے بہادر پائلٹس کا بھی مشکور ہوں۔یاد رہے کہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی میں مصروف تھے اور اس مہم جوئی میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سدپارہ سمیت غیر ملکی کوہ پیما بھی تھے۔5 فروری کو ساجد سدپارہ آکسیجن سلنڈر میں مسئلے کے باعث واپس بیس کیمپ آگئے تھے لیکن ان کے والد محمد علی سدپارہ بیس کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔محمد علی سدپارہ اور غیر ملکی کوہ پیما کی تلاش کے لیے پاک فوج اور دیگر اداروں نے ریسکیو آپریشن بھی کیا لیکن کوہ پیمائوں کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔واضح رہے کہ پاکستان کے ہیرو محمد علی سد پارہ کو دنیا کی 14 بلند چوٹیوں میں سے 8 کو سر کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…