بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید نہیں بننا چاہتا ،ٹک ٹاک بند ہونے پر شاہد آفریدی کا حیرت انگیز ردعمل

datetime 10  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہاہے کہ پاکستان کی پچز ہمیشہ بیٹسمینوں کے لیے مددگار رہتی ہیں لیکن اب کچھ تبدیلی لانی چاہئے تاکہ بولرز کو بھی تھوڑی سی سپورٹ ملے۔کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر شاہد آفریدی فاؤنڈیشن اور ڈس ایبل کرکٹ ایسوسی ایشن کے درمیان باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت

کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ایک پاکستانی فرنچائز ایل پی ایل کا حصہ ہے، ندیم عمر فرنچائز کو اچھی طرح سے لے کر چل رہے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ لیگ میں شامل گلیڈیٹر ٹیم کا حصہ ہوں۔شاہد آفریدی نے کہا کہ میں شیخ رشید نہیں بننا چاہتا کہ مجھے ہر چیز کا علم ہے، انہوں نے کہا کہ خراب کارکردگی پر بھارتی کپتان دھونی کو جو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں وہ غلط ہے، یہ کوئی طریقہ نہیں، دھونی بہت بڑا کرکٹر ہے اس نے بھارتی کرکٹ ٹیم کو بلندی تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہ بھارت کا کامیاب ترین کپتان رہا ہے، اس نے سینیئر اور جونیئر کھلاڑیوں کے اشتراک سے بہترین کرکٹ ٹیم کی قیادت کی۔شاہد آفریدی نے کہا کہ آج کے دور میں کرکٹ بہت تیز ہوگئی ہے، ٹی ٹونٹی کے بعد ٹی 10 کا بھی فارمیٹ آگیا ہے، انہوں نے کہا کہ جاری قومی ٹی ٹونٹی چیمپیئن شپ میں وکٹوں پرفاسٹ بولرزکو مشکلات کا سامنا ہے، اس کے باوجود فاسٹ بولرز کی بہترین کارکردگی قابل تحسین ہے، پاکستان کی وکٹیں ہمیشہ بیٹسمینوں کے لیے مددگار ہوتی ہیں لیکن اب اس میں تبدیلی لائی جانی چاہیے اگر وکٹیں بنانا آتا ہے تو تھوڑا سا باونسی اور کچھ سیم وکٹیں تیار کی جائیں جس سے بیٹسمینوں کو پتہ چلے اور بولرز کو بھی مدد ملے۔سابق کپتان نے کہا کہ جب بھی پاکستان ٹیم کوئی سیریز ہارتی تو ہے تو سارا الزام فٹنس پر ہی آتا ہے، میں جب بھی سنتا ہوں، دو سے تین ماہ فٹنس کیمپ لگا رہتا ہے،

میرا خیال ہے کہ یا تو جو فٹنس کیمپ لگاتے ہیں وہ ٹھیک نہیں یا پھر کھلاڑی اپنا خیال نہیں رکھتے، کھلاڑیوں کو آف سیزن میں اپنی فٹنس کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کو بھی اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ کن کھلاڑیوں کو ٹی ٹوئنٹی میں موقع ملنا ہے یا کن کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہیے، سلیکشن کمیٹی ہر کھلاڑی کو ٹیسٹ بھی کھلا دیتی ہے اور جو ٹی ٹوئنٹی

کے قابل نہ ہو اسیاس فارمیٹ کا حصہ بنا دیتے ہیں، یہ عمل درست نہیں، سلیکشن کمیٹی کو اس حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو بھی نظام لائیں اسے وقت دیں، ایسا نہیں ہے کہ نئی ڈومیسٹک نظام کی وجہ سے سارے کھلاڑی بے روزگار ہوگئے، نئے نظام کو تین سے چار برس دیں اور نتیجے کا انتظار کریں، انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک اسٹریکچر

میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا کردار اہم رہا ہے۔ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 10 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کرنے والے شعیب ملک کے حوالے سے شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ بہت پروفیشنل کرکٹر ہے، اس نے ہمیشہ پروفیشنل انداز میں اپنے کھیل کو پیش کیا وہ ایک بہترین اور آئیڈیل آل رانڈر ہے، پاکستان

کرکٹ ٹیم کی قیادت کے دوران بھی میں اسے ریڑھ کی ہڈی تصور کرتا تھا،ٹی ٹونٹی ٹی میں دس ہزار رنز مکمل کرنے پر میں شعیب ملک کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔شاہد آفریدی نے کہا کہ ٹک ٹاک بند ہونے پر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے، میرا خیال ہے کہ اسے بند ہی ہونا چاہئے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…