92کے ورلڈ کپ میں عمران خان کی پرفارمنس زیرو تھی ، آج کے کپتان جیسے کوہلی اور مورگن ہیں کیا وہ سنچریاں نہیں کرتے صرف یہ ہی کہتے ہیں کہ ہم کپتان ہیں،شہری عمران خان پر برس پڑا

  جمعرات‬‮ 20 فروری‬‮ 2020  |  12:44

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شہری ورلڈ کپ 1992جتوانے کا کریڈٹ عمران خان کو دینے پر برس پڑا، نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں میزبان نے جب سوال کیا تو آگے سے وہ شہری پھٹ پڑا، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تو پورے ٹورنامنٹ میں کوئی کارکردگی نہیں دکھائی ۔پہلا میچ پاکستان ویسٹ انڈیز سے کھیلاتھا جو ہار گیا تھا، عمران خان نے میچ ہی نہیں کھیلا تھا،دوسرا میچ پاکستان زمبابوے کیساتھ کھیلا تھا جو پاکستان جیت گیا تھا ، اس میچ میں عامر سہیل نے سنچری کی تھی ۔ تیسرے میچ میں 74پر آئوٹ  ہونے کے بعد پاکستان انگلینڈ سے ہار گیا تھا ،


عمران خان وہ میچ نہیں کھیلا تھا، چوتھے میچ میں پاکستان جنوبی افریقہ کیخلاف کھیلا تھا ، عمران خان 10رنز پر آئوٹ ہو گیا تھا، پانچواں میچ انڈیا سے ہار گیا تھا ، عمران خان زیرو پر آئوٹ ہوا۔چھٹے میچ میں پاکستان آسٹریلیا سے ہار گیا تھا ،عمران خان 7رنز پر آئوٹ ہو گیا تھا۔ساتواں میچ سری لنکا سے ہار گیا تھا ،عمران خان زیرو پر آئوٹ ہوا۔ سیمی فائنل میں نیوز ی لینڈ کیخلاف ملنے والے 263کے ٹارگٹ پر عمران خان نے 93بالوں پر 44سکور کیا تھا ،باقی کھلاڑیوں کیلئے رن ریٹ بڑھا دیا تھا ، وہ تو انضمام الحق تھے جس نے پاکستان کو میچ جتوایا اور فائنل میں وسیم اکرم نے کرس لیوئس کو آئوٹ کردیا تھا۔ ۔کوہلی اور مورگن کیا سنچریاں نہیں کرتے ، بس عمران خان خود کو کپتان کہتا رہتا ہے ، اس کی خود کی کارکردگی زیرو تھی ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎