ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

پی ایس ایل شروع ہونے سے پہلے ہی نیا پنڈورا باکس کھل گیا، فرنچائزز نے پی سی بی کے سامنے اہم مطالبات رکھ دئیے

datetime 11  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی)پاکستان سپر لیگ فرنچائزیز کی اکثریت نے بھاری نقصان کا دعوی کر کے مالی ریلیف کا مطالبہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی وہ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی مالی تفصیلات دینے سے گریزاں ہیں۔

میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پی سی بی فرنچائزیز کے مطالبات پر غور کررہا ہے تاہم بورڈ کو محسوس ہورہا ہے کہ  فرنچائزوں کی جانب سے مالی تفصیلات نہ فراہم کرنے کی وجہ سے جس نقصان کا انہوں نے دعوی کیا اس کی تشخیص کرنا ممکن نہیں۔ذرائع کے حوالے مزید کہا گیا ہے کہ صرف پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ وہ فرنچائزیز ہیں جنہوں نے پی ایس ایل 2017 کے بعد اپنے اکائونٹس مینجمنٹ کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔دوسری جانب فرنچازوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے پی سی بی اصل معاہدے میں تبدیلی کرے گا جو 10 برس قبل سائن کیا گیا تھا مذکورہ معاملہ رواں ماہ کے آخر میں پشاور میں ہونے والی بورڈ آف گورنر کے اجلاس میں زیر غور آسکتا ہے۔اس کے علاوہ فرنچائزیز پی سی بی سے یہ مطالبہ بھی کررہی ہیں کہ ان سے بینک گارنٹی جمع کروانے کا نہ کہا جائے جو کہ معاہدے کا سب سے اہم حصہ ہے۔ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فرنچائزیز نے بینک ضمانت کی جگہ بعد کی تاریخوں کے چیکس جمع کروانے کی پیشکش کی ہے اگر اس میں کوئی چیک قبول نہیں ہوا تو پی ایس ایل ختم ہونے کے بعد یکم اپریل سے آئندہ 2 سال تک بینک گارنٹیز جمع کرواسکتے ہیں۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی سی بی کو بینک گارنٹیز کے بجائے بعد کی تاریخوں کے چیکس کی صورت میں کچھ سکیورٹی مل چکی ہے اور اگر ایسا ہوا ہے تو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔اس کے ساتھ فرنچائزوں نے معاہدے کے تحت کی جانے والے ادائیگی میں شرح زرِ مبادلہ کا اطلاق نہ کرنے کی درخواست کی ہے جس سے روپے کی قدر میں کمی کے باعث انہیں تھوڑا اطمینان ملے گا۔اس صورت میں پی سی بی کم از کم بینچ مارک کی صورت میں ایک ڈالر کے عوض 138روپے کی مالیت پر راضی ہوگیا ہے جو اس وقت ڈالر کی قیمت تھی جب پی ایس ایل کی چھٹی فرنچائز ملتان سلطان کو فروخت کیا گیا تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…