ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

”مجھے ایسے معاشرے کا حصہ ہونے پر افسوس ہے “ویرات کوہلی نے بھارتی معاشرے کے شرمناک چہرے سے نقاب الٹ دیا، ننھی آصفہ کے واقعہ پر ایسی بات کہہ دی کہ مودی سرکار کو مرچیں لگ جائیں گی

datetime 18  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )مجھے ایسے معاشرے کا حصہ ہونے پر افسوس ہوتا ہے، بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے مقبوضہ کشمیر کے مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کر دی جانیوالی ننھی آصفہ کے اندوہناک واقعہ پر بھارتی معاشرے کے چہرے سے نقاب الٹ دیا۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مندر میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کر دی

جانیوالی ننھی آصفہ کے اندوہناک واقعہ پر بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے گھنائونے بھارتی چہرے سے نقاب الٹ دیا ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ویرات کوہلی نے ننھی آصفہ اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آئے اندوہناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا تمام ہندوستانیوں سے صرف ایک سوال ہے اگر خدانہ کرے ایسا واقعہ آپ کے خاندان میں کسی کے ساتھ ہو تو کیا آپ سائیڈ پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہیں گے یا مدد کریں گے؟میرے خیال میں ایسی چیزیں جان بوجھ کر ہونے دی جاتی ہیں اور اگر لوگ بھی ایسے واقعات پر کوئی اعتراض کرتے کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی بڑی بات نہیں ،ان کے خیال میں وہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسی گھناونی حرکت کر کے بچ سکتے ہیں کیونکہ سیاستدان بھی ان کی حمایت کریں گے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے جو نا قابل قبول ہے اور مجھے ایسے معاشرے کا ایک حصہ ہونے پر افسوس ہے ۔میرا تمام ہندوستانیوں سے صرف ایک سوال ہے اگر خدانہ کرے ایسا واقعہ آپ کے خاندان میں کسی کے ساتھ ہو تو کیا آپ سائیڈ پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہیں گے یا مدد کریں گے؟میرے خیال میں ایسی چیزیں جان بوجھ کر ہونے دی جاتی ہیں اور اگر لوگ بھی ایسے واقعات

پر کوئی اعتراض کرتے کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی بڑی بات نہیں ،ان کے خیال میں وہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسی گھناونی حرکت کر کے بچ سکتے ہیں کیونکہ سیاستدان بھی ان کی حمایت کریں گے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے جو نا قابل قبول ہے اور مجھے ایسے معاشرے کا ایک حصہ ہونے پر افسوس ہے ۔

 

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…