منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

دوبارہ پاکستان میں جاکر کھیلنا چاہتا ہوں، معروف بنگلہ دیشی کرکٹر نے خواہش کا اظہار کردیا

datetime 27  فروری‬‮  2017 |

دبئی (آئی این پی)پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے بنگلہ دیشی آل راؤنڈر شکیب الحسن پاکستان میں کھیلنے کا بیتابی سے انتظار کر رہے ہیں لیکن وہ زلمی کے فائنل میں پہنچنے پر اپنی انٹرنیشنل مصروفیات کی وجہ سے پاکستان نہیں آئیں گے۔اپنے ایک انٹرویو میں شکیب الحسن نے کہا کہ آخری مرتبہ 2008 میں پاکستان آ کر کھیلنے کا موقع ملا جو میرے لیے ایک خوشگوار تجربہ رہا،

انہوں نے کہاکہ شائقین، گراؤنڈز اور وہاں کا ماحول سب چیزیں بہت شاندار تھیں، میں حالات بہتر ہونے پر دوبارہ پاکستان جاکرکھیلنا چاہتا ہوں۔ آل راؤنڈر نے کہا کہ پی ایس ایل کے پاکستان کے باہر انعقاد سے اس کی کچھ رونقیں ضرور ماند پڑی ہیں، اگر ایونٹ کا انعقاد پاکستان میں ہوتا تو اور زیادہ جوش و جذبہ دیکھنے کو ملتا۔ شکیب نے گزشتہ ایڈیشن میں کراچی کنگز کی نمائندگی کی تھی آل راؤنڈر نے کہا کہ پی ایس ایل کے پاکستان کے باہر انعقاد سے اس کی کچھ رونقیں ضرور ماند پڑی ہیں، اگر ایونٹ کا انعقاد پاکستان میں ہوتا تو اور زیادہ جوش و جذبہ دیکھنے کو ملتا۔ شکیب نے گزشتہ ایڈیشن میں کراچی کنگز کی نمائندگی کی تھی اور حالیہ ایڈیشن میں وہ پشاور زلمی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ون ڈے انٹرنینشلز اور ٹی 20 کے نمبر ون آل راؤنڈر اس سے قبل 2008 میں پاکستان میں آ کر کھیلے تھے، ون ڈے سیریز میں اگرچہ بنگلہ دیش کو پاکستان کے ہاتھوں 0۔5 سے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن شکیب الحسن نے بیٹنگ اور بولنگ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا جس میں ایک سنچری اور ایک مین آف دی میچ ایوارڈ بھی شامل تھا۔ واضح رہے کہ شکیب الحسن اور دوسرے بنگلہ دیشی پلیئرز انٹرنیشنل مصروفیات کی وجہ سے 28 فروری کو واپس چلے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…