پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

واحدکھلاڑی جو خود اینٹی کرپشن یونٹ کے پاس پیش ہوا اورفکسنگ کے حوالے سے انکشافات کئے

datetime 12  فروری‬‮  2017 |

دبئی (آئی این پی)پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی ٹیم کراچی کنگز کے سربراہ سلمان اقبال نے کہا ہے کہ شاہ زیب حسن خود اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے اور اسے مشکوک افراد کی جانب سے ان سے کئے گئے رابطے کے بارے میں تمام تر تفصیلات سے مطلع کیا تھا۔

سلمان اقبال نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کراچی کنگز کی پوری مینجمینٹ شاہ زیب کے ساتھ تھی کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ شاہ زیب حسن نے کوئی غلط کام نہیں کیا اسی لیے کپتان سنگاکارا اور کوچ مکی آرتھر نے بھی ان کی ہمت بڑھائی۔سلمان اقبال نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ذرائع ابلاغ نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عماد وسیم کا نام بھی اس معاملے میں اچھالا حالانکہ ان کا اس معاملے میں دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ سلمان اقبال نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی تمام فرنچائزز کے مالکان ایک ہیں لیکن میڈیا بٹا ہوا ہے۔ میڈیا کو اس بارے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ کسی بھی کھلاڑی کے بارے میں بے سروپا خبر نہ دی جائے کیونکہ یہ اس کے کریئر کا معاملہ ہوتا ہے اس کے علاوہ اس طرح کی خبریں دینے سے قبل یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس سے پاکستان سپر لیگ کو ہی نقصان پہنچ سکتا ہے ،سلمان اقبال نے کہا کہ تمام فرنچائزز گذشتہ سال ہی یہ طے کرچکے تھے کہ اس لیگ کو منفی عناصر سے محفوظ رکھیں گے لیکن یہ افسوس ناک واقعہ پیش آگیا تاہم جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب ہمیں کھیل کی طرف توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…