ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

دورہ پاکستان کو رشوت سے جوڑنے پر سکندر رضا آگ بگولہ

datetime 19  جون‬‮  2015 |

ہرارے (نیوز ڈیسک)پاکستانی نژاد زمبابوین بیٹسمین سکندر رضا نے میڈیا کی جانب سے زمبابوے کے دورہ پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف زمبابوین کھلاڑیوں کو رقم دینے کے معاملے کو اچھالنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔2009 ء میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملے کے بعد سے پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور زمبابوے چھ سال میں دورہ کرنے والی پہلی ٹیسٹ ٹیم تھی لیکن سیریز کے بعد اس کی اہمیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کچھ حلقوں نے زمبابوین کھلاڑیوں کو سیریز میں دئیے جانے والے معاوضے پر موضوع بحث بنا لیا۔ سکندر رضانے کہا کہ کرکٹرز کو پیسے کمانے کا پورا حق ہے اور میڈیا کو اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ برینڈن ٹیلر جیسے کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہنے پر کیوں مجبور ہوئے۔کسی کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ کون کتنا کماتا ہے ، یہ انتہائی خفیہ معاملات ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص میری کمائی کے حوالے سے جانتا ہے تو وہ میرے والد اور میں خود ہوں۔ لوگوں کو رقم کے بارے میں جاننے میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو انہیں ہماری میچ فیس میں دلچسپی کیوں نہیں جو انتہائی کم ہے۔ سکندر رضا نے کہا کہ کرکٹرز کوکھیلنے کے عوض رقم ملتی ہے اور اس معاملے کو میڈیا میں نہیں اچھا لنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یہ سیریز دوطرفہ معاہدے کا نتیجہ تھی جس کی وجہ سے پاکستان بھی زمبابوے کا دورہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں بھی کوئی سیریز ہوتی ہے تو پاکستان میں کھیلنے کا خواہشمند رہوں گا۔ واضح رہے کہ دورے کے عوض زمبابوے کے ہر کھلاڑی کو ساڑھے بارہ ہزار ڈالرز دئیے گئے۔اس حوالے سے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈشہریار خان کا کہنا تھا کہ زمبابوین کھلاڑیوں کو دی جانے والی رقم زمبابوین بورڈ سے ہونے والے معاہدہ کا حصہ تھی تاہم یہ رشوت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…