پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

ایران: حکومت اپنے فیصلے سے مکر گئی، خواتین کے میچ دیکھنے پر پابندی

datetime 19  جون‬‮  2015 |

تہران ( نیوزڈیسک)ایران نے کہا ہے کہ مرد ٹیموں کے درمیان مقابلے کے دوران خواتین کو تماشائیوں کے طور پر گراﺅنڈ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی خاتون میچ دیکھنے گئی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اےرانی وزےر داخلہ مسٹر رحمانی فضلی نے کہا کہ خواتین کے میچ دیکھنے کے لیے کسی قسم کی اجازت دینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ وزارت اسپورٹس وامور نوجوانان اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ مرد ٹیموں کے درمیان میچوں کے دوران خواتین تماشائیوں کو گراﺅنڈ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بعض شرپسند عناصر کی جانب سے یہ افواہ پھیلائی گئی ہے کہ خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت مل گئی۔ ہم واضح کررہے ہیں کہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ انہیں پتا چلا ہے کہ خواتین اور سول سوسائٹی کے لوگ وزارت کھیل و امور نوجوانان کے سامنے خواتین کو میچ دیکھنے سے روکنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی تیاری کررہے ہیں۔ پولیس کو ایسے کسی بھی مظاہرے کو منظم کرنے سے سختی سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ کچھ عرصہ پیشتر صدر حسن روحانی نے اپنی بعض سخت گیر پالیسیوں میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خواتین کے کھیل کے میدان میں میچ دیکھنے کی اجازت دینے پر غور کررہے ہیں۔ صدر کی معاون خصوصی برائے امور خواتین شہیندخت ملارودی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر کے حکم سے ایک نیا فرمان جاری کیا گیا ہے جس میں خواتین کو کھیل کے میدان میں میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم صدرحسن روحانی شدت پسندوں کے سامنے جھک گئے اور انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔قبل ازیں ایرانی وزیر اسپورٹس عبدالحمید احمدی نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ سپریم قومی سلامتی کونسل نے خواتین کے میچ دیکھنے سے متعلق وزارت کی تجاویز کو قبول کرلیا ہے جس کے بعد بعض شرائط کے تحت خواتین کو گراﺅنڈ میں میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی۔ایک ہفتہ قبل ایک شدت پسند تنظیم “انصار حزب اللہ” اور مذہبی مدرسہ حوزہ العلمیہ کے طلبائ نے دھمکی دی تھی کہ اگرخواتین میچ دیکھنے گراﺅنڈ میں آئیں تو پھر خون خرابہ ہوگا۔ایرانی شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ کھیل کے میدانوں میں خواتین کا آنا مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے احکامات کی خلاف ورزی اور ایران کی روایات کی توہین ہے۔خیال رہے کہ انٹرنیشنل فٹ بال فیڈریشن “فیفا” کے چیئرمین “سیپ بلاٹر” نے رواں سال کےآغاز میں تہران حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خواتین پر میچ دیکھنے پر عائد پابندیاں ختم کرے اور خواتین کو میچ دیکھنے کے لیے گراﺅنڈ میں آنے کی اجازت دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…