جن کو پاک ایم ایم اے فائٹ کلب نے بہتر مستقبل کی امید دی ہے۔ وہ دن بھر ایک مقامی ریستوران میں ویٹر کا کام کرتے ہیں، لیکن شام کو وہ صرف اپنے مارشل آرٹس کے ہنر سے پہچانے جاتے ہیں اور چیمپئین ہیں۔بیشتر مقامی ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد اب وہ بین الاقوامی سطح پرخود کو منوانے کے لیے کوشاں ہیں۔اویس کا کہنا ہے کہ جب وہ یہاں آئے تھے تو ان کے پاس باکسنگ کے دستانے خریدنے تک کے پیسے نہیں تھے، لیکن ان کا ہنر دیکھ کر فائٹ کلب کے منتظمین نے ان کی تربیت اور ساز و سامان کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لی اور آج وہ اس کھیل میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں مجھے اپنی غربت کا احساس نہیں ہوتا۔ یہاں ویٹر اور وزیر کا بیٹا ایک ہی گلاس سے پانی پیتے ہیں۔ لڑائی کے رِنگ میں کوئی امیر اور غریب نہیں، صرف انفرادی مہارت میں ہار یا جیت ہے۔‘
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجلی صارفین کیلئے خوشخبری، نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان
-
سیٹی سے رزق کمانے والا انسان
-
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریلیف کی امید جاگ اٹھی
-
60 برس کی عمر میں 18 کلو وزن میں کمی اور مائیگرین سے نجات، عامر خان نے اپنی خاص غذا بتادی
-
نویں جماعت کی طالبہ کیساتھ گن پوائنٹ پر زیادتی کی ویڈیو وائرل
-
بچوں کی فیس! 2 لاکھ ماہانہ آمدن والے والدین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پی سی بی نے آئندہ ماہ چار ٹیموں کے ون ڈے ٹورنامنٹ کی تصدیق کردی
-
پیٹرول مہنگا کرنےکے بعد عوام پر ایک اور بم گرا دیا گیا
-
نادرا کی جانب سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اہم پیغام جاری کردیا گیا
-
مون سون بارشوں کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا
-
کراچی: ڈاکٹرز کی غفلت، والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی، 2بیٹوں کے بعد بیٹی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق
-
ہائی ویز اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں حیران کن اضافہ کر دیا گیا
-
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، سونا اور چاندی بھی سستے ہوگئے
-
اسٹوکس کی متنازع ریٹائرمنٹ ویڈیو، آئی سی سی کا کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ



















































