بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

چیرمین پی سی بی نے ٹیم کو جیت کا فارمولا بتا دیا

datetime 18  مارچ‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا ہے کہ ٹیم متحد اور نڈر ہو کر کھیلے تو ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے ہیں۔
پروگرام خبر سے آگے میں میزبان نبیلہ سندھو سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری طرف سے ٹیم کو بہت واضح پیغام ہے کہ متحد اور مطمئن ہو کر کھیلیں حالانکہ ایسے موقع پر مطمئن ہو کر کھیلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ٹیم جارحانہ کرکٹ کھیلے، اگر ہم جنوبی افریقہ کوہرا سکتے ہیں تو پھرآسٹریلیا کوبھی ہرا سکتے ہیں۔کوارٹر فائنل کے لیے عرفان کا کوئی متبادل نہیں جا سکتا۔ اگر کوارٹر فائنل جیت جاتے ہیں تو پھر ٹور کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ عرفان کی جگہ کس کو کھلایا جائے۔ جنید خان بھی فٹ ہو چکے ہیں یا جو بھی ٹور کمیٹی فیصلہ کرے گی اس کو مانیں گے۔ سعید اجمل کو بھی کھلایا جا سکتا ہے۔ اگر اب ہمارا بھارت سے میچ ہوا تو بہت بڑا ایونٹ ہو گا۔اس مرتبہ ہماری پرفارمنس بھی بہت اچھی ہو گی۔ اگرمیچ ہوا تو ہم جیت جائیں گے۔
روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹرایازخان نے کہا عرفان کی عدم موجودگی سے ٹیم پر زیادہ پریشر نہیں آنا چاہیے کیونکہ پچھلے میچ میں بھی وہ نہیں تھے۔ ہمارا باؤلنگ اٹیک اس قابل ہے کہ وہ عرفان کے بغیر بھی اچھا پرفارم کرسکے۔ ہاں عرفان کا ایک ہوا ضرور ہوتا ہے۔ ہماری ٹیم کا اس وقت کمبینیشن بہت اچھا چل رہا ہے ۔ پاکستانی ٹیم دعاؤں کے بل پر جیتتی ہے۔ کوارٹرفائنل والے روز جمعے کا دن ہے تودعائیںبھی ہوں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ ورلڈ کپ کے بعد ٹیم اور ٹیم منیجمنٹ میں بہت تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ اسپورٹس ایکسپرٹ امجد نسیم نے کہا کہ عرفان کی عدم موجودگی سے فرق تو نہیں پڑنا چاہیے۔ آئیڈیل صورتحال یہ تھی کہ یاسرشاہ سارا ایونٹ کھیلتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہمیں بہت سمجھ داری سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ صہیب کی جگہ پر یونس خان کو کھلایا جائے گا۔
کراچی کے اسپورٹس ایڈیٹر سلیم خالق نے کہا کہ مصباح الحق اور وقار یونس پر بہت پریشر پڑ چکا ہے اور لگتا ہے کہ اس مرتبہ یاسر شاہ کو کھلا لیا جائے گا۔ اگر یاسر شاہ کو کھلایا جائے تو یہ ایک سرپرائز پیکج ثابت ہو سکتے ہیں۔ سرفراز کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی سمجھا جا رہا تھا کہ یہ عام سا پلیئر ہے لیکن وہ سب سے اچھا ثابت ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ عرفان کو مسلسل کھلا کر ٹیم منیجمنٹ نے ان کو خود انجرڈ کردیا ہے۔ 1992ء میں انضمام الحق بھی ایک عام کھلاڑی کی طرح سے سامنے آئے تھے جب ناک آؤٹ مرحلے میں کھیلے تو ہیرو بن گئے۔ ہوسکتا ہے کہ صہیب بھی ایسے کھلاڑی ثابت ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…