ہفتہ‬‮ ، 22 جون‬‮ 2024 

کیا یہ پاکستان کا بدترین فاسٹ باؤلنگ اٹیک ہے؟

datetime 13  فروری‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جنید خان کی انجری اور ان کا ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کے باعث پاکستانی شائقین کافی مایوس ہیں۔ مصباح الحق کی ٹیم بہترین فاسٹ باؤلرز کے بغیر آسٹریلیا اور نیو زی لینڈ روانہ ہوئی اور ساتھ ہی سعید اجمل اور محمد حفیظ کی باؤلنگ پر پابندی کے باعث پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھی۔ ایک باؤلنگ اٹیک جو پہلے عرفان، جنید، آفریدی، اجمل اور حفیظ کی وجہ سے کافی بہتر دکھائی دیتا لیکن اب انتہائی خراب صورتحال سے دوچار ہے۔ اجمل کو آئی سی سی کی جانب سے کلیئر کیا جا چکا ہے لیکن اسکواڈ کے مسلسل انجریز سے شکار ہونے کے باوجود ان کا اسکواڈ سے باہر ہونا یقیناً اچھنبے سے کم نہیں۔ جنید خان کی جگہ اسکواڈ میں شمال کیے جانے والے رات علی نے صرف ایک روزہ میچ کھیلا ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو راحت علی ، سہیل خان اور احسان عادل نے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 10ایک روزہ میچ کھیلے ہیں۔یہ ناصرف پاکستان کا سب سے نا تجربہ کار باؤلنگ اٹیک ہے بلکہ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی کسی بھی ٹیسٹ کھیلنی والی ٹیم کا بھی سب سے کمزور باؤلنگ اٹیک ہے۔ پاکستان کے بالنگ پیس اٹیک سہیل خان،راحت علی، وہاب ریاض ، محمد عرفان اور احسان عادل پر مشتمل ہے اور ان پانچوں نے مجموعی طور پر 97 ایک روزہ میچ کھیلے ہیں جس میں 126وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یہ ورلڈ کپ میں شریک 10ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں کا سب سے کمزور باؤلنگ اٹیک ہے، یہاں تک کہ سب سے کم درجہ کی ٹیمیں بنگلہ دیش اور زمبابوے کا باؤلنگ اٹیک بھی اس سے زیادہ تجربہ کار ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے علاوہ ورلڈ کپ میں شریک ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ہر ٹیم ایک ایسا باؤلر موجود ہے جس نے پاکستان کے پانچوں باؤلرز سے زیادہ میچ کھیلنے کے ساتھ ساتھ زیادہ وکٹیں بھی حاصل کیں۔ پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے ناصرف کم ترین میچ کھیلے اور سب سے کم وکٹیں حاصل کیں بلکہ اوسط، اکانومی اور اسٹرائیک ریٹ میں بھی یہ سب سے کم تر ہیں۔ ورلڈ میں مد مقابل ٹیسٹ کھیلنے والی دس ٹیموں میں سے پاکستانی باؤلرز کی اوسط صرف زمبابوین باؤلرز سے بہتر ہے۔ اکانومی ریٹ کے لحاظ سے پاکستانی پیس اٹیک صرف انڈیا اور زمبابوے کے باؤلنگ اٹیک سے کچھ بہتر ہے جبکہ اسٹرائیک ریٹ صرف بنگلہ دیش اور زمبابوے جیسی کمزور ٹیموں سے بہتر دکھائی دیتا ہے۔ ٰیہ با آسانی کہا جا سکتا ہے کہ زمبابوے کے علاوہ پاکستان کا باؤلنگ اٹیک سب سے کمزور ہے۔ پاکستان نہ صرف اس ورلڈکپ میں کمزور باؤلنگ اٹیک کے ساتھ ورلڈکپ کھیلنے گیا ہے بلکہ 1992 کے ورلڈ کپ سے لے کر اب تک کا یہ سب سے کمزور بالنگ اٹیک ہے ۔ 1992 سے اب تک ورلڈ کپ کھیلنے والے پاکستانی باؤلنگ اٹیک کا معائنہ کیا جائے تو کچھ ایسی صورتحال سامنے آتی ہے۔ یہ پیس اٹیک ناصرف تجربے بلکہ کارکردگی میں کافی پیچھے نظر آتا ہے۔ اس اٹیک کا اکانومی ریٹ تمام گزشتہ ورلڈ کپ کے پاکستانی اٹیک سے بدتر ہے بلکہ اوسط صرف 2007 میں ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم سے بہتر ہے، وہ بھی نہ ہونے کے برابر۔ یہ کافی خراب صورتحال ہے کہ وہ ملک جہاں سے آج تک دنیا کا سب سے بہترین فاسٹ باؤلنگ کا ٹیلنٹ نکلا ، وہ آج سب سے کمزور بالنگ اٹیک کے ساتھ ورلڈ کپ کھیلنے گئے ہیں۔ آج بھی وہ وقت یاد آتا ہے جب پاکستان ٹیم 200رنز با آسانی روک لیتی تھی اور اب نیوزی لینڈ پریزیڈنٹ الیون کے خلاف 313 نہ روک سکی۔



کالم



صدقہ‘ عاجزی اور رحم


عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر پاک و ہند کے نامور…

شرطوں کی نذر ہوتے بچے

شاہ محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی‘ وہ کراچی کے…

یونیورسٹیوں کی کیا ضرروت ہے؟

پورڈو (Purdue) امریکی ریاست انڈیانا کا چھوٹا سا قصبہ…

کھوپڑیوں کے مینار

1750ء تک فرانس میں صنعت کاروں‘ تاجروں اور بیوپاریوں…

سنگ دِل محبوب

بابر اعوان ملک کے نام ور وکیل‘ سیاست دان اور…

ہم بھی

پہلے دن بجلی بند ہو گئی‘ نیشنل گرڈ ٹرپ کر گیا…

صرف ایک زبان سے

میرے پاس چند دن قبل جرمنی سے ایک صاحب تشریف لائے‘…

آل مجاہد کالونی

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میرے ایک دوست کسی…

ٹینگ ٹانگ

مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…

ایک نئی طرز کا فراڈ

عرفان صاحب میرے پرانے دوست ہیں‘ یہ کراچی میں…

فرح گوگی بھی لے لیں

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…