جنید خان کی انجری اور ان کا ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کے باعث پاکستانی شائقین کافی مایوس ہیں۔ مصباح الحق کی ٹیم بہترین فاسٹ باؤلرز کے بغیر آسٹریلیا اور نیو زی لینڈ روانہ ہوئی اور ساتھ ہی سعید اجمل اور محمد حفیظ کی باؤلنگ پر پابندی کے باعث پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھی۔ ایک باؤلنگ اٹیک جو پہلے عرفان، جنید، آفریدی، اجمل اور حفیظ کی وجہ سے کافی بہتر دکھائی دیتا لیکن اب انتہائی خراب صورتحال سے دوچار ہے۔ اجمل کو آئی سی سی کی جانب سے کلیئر کیا جا چکا ہے لیکن اسکواڈ کے مسلسل انجریز سے شکار ہونے کے باوجود ان کا اسکواڈ سے باہر ہونا یقیناً اچھنبے سے کم نہیں۔ جنید خان کی جگہ اسکواڈ میں شمال کیے جانے والے رات علی نے صرف ایک روزہ میچ کھیلا ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو راحت علی ، سہیل خان اور احسان عادل نے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 10ایک روزہ میچ کھیلے ہیں۔یہ ناصرف پاکستان کا سب سے نا تجربہ کار باؤلنگ اٹیک ہے بلکہ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی کسی بھی ٹیسٹ کھیلنی والی ٹیم کا بھی سب سے کمزور باؤلنگ اٹیک ہے۔ پاکستان کے بالنگ پیس اٹیک سہیل خان،راحت علی، وہاب ریاض ، محمد عرفان اور احسان عادل پر مشتمل ہے اور ان پانچوں نے مجموعی طور پر 97 ایک روزہ میچ کھیلے ہیں جس میں 126وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یہ ورلڈ کپ میں شریک 10ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں کا سب سے کمزور باؤلنگ اٹیک ہے، یہاں تک کہ سب سے کم درجہ کی ٹیمیں بنگلہ دیش اور زمبابوے کا باؤلنگ اٹیک بھی اس سے زیادہ تجربہ کار ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے علاوہ ورلڈ کپ میں شریک ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ہر ٹیم ایک ایسا باؤلر موجود ہے جس نے پاکستان کے پانچوں باؤلرز سے زیادہ میچ کھیلنے کے ساتھ ساتھ زیادہ وکٹیں بھی حاصل کیں۔ پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے ناصرف کم ترین میچ کھیلے اور سب سے کم وکٹیں حاصل کیں بلکہ اوسط، اکانومی اور اسٹرائیک ریٹ میں بھی یہ سب سے کم تر ہیں۔ ورلڈ میں مد مقابل ٹیسٹ کھیلنے والی دس ٹیموں میں سے پاکستانی باؤلرز کی اوسط صرف زمبابوین باؤلرز سے بہتر ہے۔ اکانومی ریٹ کے لحاظ سے پاکستانی پیس اٹیک صرف انڈیا اور زمبابوے کے باؤلنگ اٹیک سے کچھ بہتر ہے جبکہ اسٹرائیک ریٹ صرف بنگلہ دیش اور زمبابوے جیسی کمزور ٹیموں سے بہتر دکھائی دیتا ہے۔ ٰیہ با آسانی کہا جا سکتا ہے کہ زمبابوے کے علاوہ پاکستان کا باؤلنگ اٹیک سب سے کمزور ہے۔ پاکستان نہ صرف اس ورلڈکپ میں کمزور باؤلنگ اٹیک کے ساتھ ورلڈکپ کھیلنے گیا ہے بلکہ 1992 کے ورلڈ کپ سے لے کر اب تک کا یہ سب سے کمزور بالنگ اٹیک ہے ۔ 1992 سے اب تک ورلڈ کپ کھیلنے والے پاکستانی باؤلنگ اٹیک کا معائنہ کیا جائے تو کچھ ایسی صورتحال سامنے آتی ہے۔ یہ پیس اٹیک ناصرف تجربے بلکہ کارکردگی میں کافی پیچھے نظر آتا ہے۔ اس اٹیک کا اکانومی ریٹ تمام گزشتہ ورلڈ کپ کے پاکستانی اٹیک سے بدتر ہے بلکہ اوسط صرف 2007 میں ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم سے بہتر ہے، وہ بھی نہ ہونے کے برابر۔ یہ کافی خراب صورتحال ہے کہ وہ ملک جہاں سے آج تک دنیا کا سب سے بہترین فاسٹ باؤلنگ کا ٹیلنٹ نکلا ، وہ آج سب سے کمزور بالنگ اٹیک کے ساتھ ورلڈ کپ کھیلنے گئے ہیں۔ آج بھی وہ وقت یاد آتا ہے جب پاکستان ٹیم 200رنز با آسانی روک لیتی تھی اور اب نیوزی لینڈ پریزیڈنٹ الیون کے خلاف 313 نہ روک سکی۔
کیا یہ پاکستان کا بدترین فاسٹ باؤلنگ اٹیک ہے؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































