ماں کاپلُّو یا قارون کا خزانہ ؟ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک تھے ہمارے ٹھیکیدار دوست۔ سرکاری ٹھیکے لیتے، رشوت خوب دیتے، مال بھی خوب بناتے اور پھر اپنے کارنامے ہمیں مزے لے لے کر سْناتے۔ ایک دن ہم نے بِھنّا کر کہا کہ یار چوری پر اِتنا فخر۔اْنھوں نے کہا بھیا چوری کاہے کی۔ ملک اپنی ماں ہے۔ جو ماں کا… Continue 23reading ماں کاپلُّو یا قارون کا خزانہ ؟ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا











































