پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

میری لاش کو کاٹ ڈالیں گے

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کاٹکراؤ حجاج بن یوسف کے ساتھیوں سے ہواتو دشمن بہت زیادہ تھے، عبداللہ بن زبیرؓ کے ساتھ چند سو ساتھی تھے جو ایک ایک کرکے شہید ہو گئے تھے، پھر ان کو بھی اندازہ ہو گیا کہ آج میری زندگی کا آخری دن ہے، چونکہ وہ اپنے گھر کے دروازے پر ہی تھے اس لیے ان کے دل میں خیال آیا کہ میں اپنی والدہ کو آخری وقت میں جا کر سلام ہی کر لوں، چنانچہ وہ اپنی والدہ حضرت اسماءؓ کے پاس پہنچ گئے،

حضرت اسماءؓ اس وقت بوڑھی ہو چکی تھیں اور آنکھوں پر موتیا اترنے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی، دیکھ نہیں سکتی تھیں، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے عرض کیا: امی! میں آپ کو آخری مرتبہ سلام کرنے آیا ہوں، پوچھا بیٹا: تمہیں کس بات کی پریشانی ہے؟ عرض کیا: امی! مجھے خوف ہے کہ جب یہ لوگ مجھے شہید کر دیں گے تو میری لاش کو کاٹ ڈالیں گے، قیمہ بنا ڈالیں گے، مثلہ کر دیں گے، بوڑھی ماں کہتی ہے: بیٹا! جب بکری کی جان نکال لی جاتی ہے تو پھر اس کی بوٹیاں کریں یا کھال اتاریں، اس سے بکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا، حضرت نے عرض کیا: اچھاامی! میں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں اور اب واپس جا رہا ہوں، ماں نے کہا: واپس تو چلے جانا مگر جانے سے پہلے ذرا میرے قریب ہو جا میں تیری شکل تو نہیں دیکھ سکتی، مگر میں چاہتی ہو کہ تمہارا بوسہ لوں اور تمہارے جسم کی خوشبو سونگھ لوں، بالآخر ماں نے اپنے بیٹے کو رخصت کرتے ہوئے تین باتیں کہیں، کہا:*۔۔۔ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ یہ عبداللہ میرا وہ بیٹاہے جو سردیوں کی لمبی راستوں میں تیرے سامنے مصلے پر کھڑا رہتاتھا۔*۔۔۔ اے اللہ! یہ میرا وہ بیٹاہے جوگرمی کے لمبے دنوں میں تیری رضا کی خاطر روزہ رکھتا تھا۔*۔۔۔ اے اللہ! یہ میرا وہ بیٹا ہےجس نے خدمت کے ذریعہ اپنے بڑوں کا دل خوش کر دیا، اے اللہ! تو بھی اس سے راضی ہو جا۔اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرؓ باہر آئے اور آتے ہی شہید ہوگئے۔

 

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…