جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ایشیا کا ایسا ملک جہاں جرائم اتنے کم ہیں کہ دکاندار اپنی دکانوں کو تالہ لگائے بغیر گھر چلے جاتے ہیں، جان کر ہم مسلمان شرمندہ ہو جائیں

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صداقت، امانت، دیانت کبھی مسلمانوں کی میراث تھی مگر جلد ہی دنیا ان اقدار کو اپنا کر بہت آگے نکل گئی اور ہم ان اقدار سے دامن چھڑا کر کہیں پستیوں میں جا گرے۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں ان اقدار کی روشن مثالیں آج بھی ہمارے سامنے تابندہ ستاروں کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہیں اور ہم اسے دیکھ کر حسرت زدہ آہ ہی بھر کے رہ جاتے ہیں۔

ان ممالک میں مشرقی ایشیا کا ایک چھوٹا سا ملک سنگاپور ہے ، اقتصادی ، امن و امان کے حوالے سے سنگا پور ایک مثالی ملک ہے۔ اس ملک میں جرائم کی شرح اتنی کم ہے کہ لوگ اکثر اوقات اپنی دکانوں کو تالا لگائے بغیر ہی بند کرکے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ سنگا پور کو اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے سیف سٹیز انڈیکس 2017ءمیں ٹوکیو کے بعد دنیا کا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سنگا پور میں بہت سے شاپنگ سٹور ایسے ہیں جن کے دروازوں پر تالے ہی نہیں جبکہ بعض جگہوں پر آپ کو ان دکانوں پر دروازے بھی نہیں ملیں گے۔ حکومت اور پولیس مل کر ملک کو جرائم سےپاک کرنےکا عزم لے کر چل رہے ہیں، گزشتہ سال نگرانی کے نئے جدید ترین نظام کا بھی آغاز کیا گیا، جس کے تحت سنگاپور میں نگرانی کے لئے موجود کیمروں میں مزید ہزاروں کیمروں کا اضافہ کیا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ سنگاپور وہ ملک ہے جہاں آج سے تقریباً پانچ سال پہلے بھی نگرانی کے لئے 62ہزار سے زائد کیمرے موجود تھے۔جرائم کی شرح اور عوام میں غلط اقدار سے پرہیز کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ مصروف ترین ریلوے سٹیشن ’ریفلز پلیس‘ میں واقع کافی شاپ پر دروازہ ہی موجود نہیں ، دکان بند کرنے کیلئے اس کے سامنے ایک رسی باندھ دی جاتی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ دکان بند ہے۔ خدشہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی کھلی

دکان سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا سکتا ہے مگر ہزاروں گزرتے اجنبی مسافروں کی جانب سے کبھی ایسا نہیں کیا گیا۔ امن و امان اور جرائم کی شرح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2016ءمیں 135 دن ایسے گزرے جن کے دوران ایک بھی جرم کی اطلاع پولیس کو نہیں ملی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…