منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

نواز شریف کو پرویز مشرف کے ہاتھوں پھانسی سے کس نے بچایا ؟ سالوں بعد سابق اہم عہدیدار اور چشم دید گواہ نے راز فاش کر دیا

datetime 15  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ اور سعودی عرب نے نواز شریف کو مشرف کے ہاتھوں پھانسی سے بچایا، بل کلنٹن کی بات کے جواب میں مشرف نے تابعداری سے کہا کہ’’میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں‘‘ سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے انکشافات ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نواز شریف انسداد دہشتگردی عدالت میں

مقدمے کا سامنا کر رہے تھے جب انہیں بچانے کی پہلی اہم کوشش امریکی صدر بل کلنٹن کی جانب سے کی گئی۔ امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کی نہ تو تصاویر کھینچی گئی نہ ویڈیو بنائی گئی ۔ بل کلنٹن نے مشرف سے کہا ’’بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے آپ کو تاکہ آپ لوگوں سے نظر ملا کر بات کر سکیں‘‘جس پر مشرف نے نہایت تابعداری سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں کینہ پرور آدمی نہیں اور آپ کی بات سمجھ رہا ہوں، نواز شریف کی جان کو خطرہ نہین وہ گا‘‘۔ شوکت عزیز کے مطابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دورے کا سرکاری موقف واضح تھا وہ نواز شریف کو معافی دلوانے اور ملک سے بحفاظت نکلوانا چاہتے تھے۔ امریکی صدر کے دورے کے دو ہفتے بعد ہی نواز شریف پر دہشتگردی اور ہائی جیکنگ الزامات ثابت ہو گئے اور انہیں عمر قید کی سزا سنا دی گئی مگر اہم بات یہ تھی کہ انہیں سزائے موت نہیں دی گئی۔ شوکت عزیز کے مطابق نواز شریف کی بحفاظت ملک چھوڑنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کا دوسرا اہم کھلاڑی سعودی عرب تھا سعودی ولی عہد عبداللہ کی ایما پر لبنان کے وزیراعظم رہنے والے رفیق حریری نے نواز شریف کی رہائی کیلئے مشرف سے مذاکراتی عمل شروع کیا۔ رفیق حریری کا بیٹا سعد حریری نواز شریف سے اٹک قلعے کی جیل میں ملنے جاتا تھا اور سعد حریری کے ان دوروں کو کاروبارہ دورہ بنا کر پیش کیا جاتا ۔شوکت عزیز کی کتاب کے مطابق نواز شریف کو سعودی عرب اور امریکہ نے بچایا اور ان کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…