ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

میں اس کی سواری ہوں

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

فضاؤں میں طواف کرنے والوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ، آنکھوں سے آنسو سیلاب کی طرح رواں تھے اچانک ان محبوبانِ خدا کے پیچھے ایک بدو نظر آیا جو قد کالمبا تھا، جوانی سے بھرپور تھا، اس نے  کندھے پر وڑھی ماں کو اٹھایا ہوا تھا۔ وہ بدّو یہ اشعار گن گنا رہا تھا۔ ’’یعنی میں اس کی سواری ہوں، مجھے کوئی ناگواری نہیں۔ میری ماں نے مجھے پیٹ میں اٹھایا اور دودھ پلایا وہ اس سے کہیں ہے، لبیک اللھم لبیک‘‘۔

حضرت علیؓ جو بیت اللہ کی ایک جانب عمرؓ کے ساتھ کھڑے تھے اور طواف والوں کو دیکھ رہے تھے، فرمایا کہ اے ابوحفص! (حضرت عمرؓ کی کنیت) چلو! ہم بھی طواف کریں تاکہ ہم سب پر رحمت خداوندی کا نزول ہو۔ چنانچہ آپ دونوں اس دیہاتی کے پیچھے طواف کرنے لگے اور حضرت علی ؓ اس بدو کو یوں جواب دینے لگے۔’’اگر تو اس کے ساتھ نیکی کرتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کر، اللہ تجھے تھوڑے عمل پر زیادہ اجر دیں گے‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…