پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

تیرا ناس ہو!

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

مدینہ منورہ میں نجار کے چند وفود آئے ہر طرف ہنگامہ اور شوربرپا ہونے لگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ آؤ چلو! ہم اس رات چوری وغیرہ سے لوگوں کو بچانے کے لئے پہرہ داری کریں۔ چنانچہ وہ دونوں رات بھر پہرہ داری کرتے رہے اور جس قدر اللہ نے ان کے لئے لکھا تھا نمازیں پڑھتے رہے۔

اسی دوران حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی تو آواز کی طرف متوجہ ہوئے اور جا کر اس کی ماں سے کہا، جو اس کو چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی، خدا کا خوف کرو، اپنے بچے کاخیال کرو، یہ کہہ کر اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے، پھر تھوڑی دیر کے بعدبچہ کے رونے کی آواز آئی تو دوبارہ اس کی ماں کے پاس گئے اور اسی طرح اس کو سمجھا کر واپس آ گئے، رات کے آخری حصہ میں اس بچے کے رونے کی پھر آواز آئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بچہ کی ماں کے پاس آئے اور سختی سے کہا کہ تیرا ناس ہو! لگتا ہے کہ تم بری ماں ہو، کیا بات ہے کہ تمہارا یہ بچہ ساری رات بے چین رہا؟ ماں نے پریشانی اور بھوک کے عالم میں جواب دیا کہ اے اللہ کے بندے! تو نے مجھے آج کی رات پریشان کیا، میں اصل میں اس بچہ کو دودھ چھڑانے کی مشق کرا رہی ہوں مگر یہ انکار کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ ایسا کیوں کر رہی ہو؟ بچہ کی ماں نے کہا کہ اس لئے کہ عمر رضی اللہ عنہ اسی بچے کا وظیفہ مقرر کرتے ہیں جس کا دودھ چھڑا لیا گیا ہو(یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ خوف سے تھرانے لگے اور اس سے پوچھا کہ اس بچہ کی کتنی عمر ہے؟ اس کی ماں نے بتایا کہ اتنے مہینے ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیرا ناس ہو! تو اس کا دودھ جلدی نہ چھڑا۔ یہ کہہ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس آ گئے۔

فجر کی نماز پڑھائی تو لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی قرأت کے دوران آہ و بکار کا غلبہ محسوس کیا۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا کہ عمر کیلئے تنگ ہو! مسلمانوں کے کتنے بچے مر گئے؟ اس کے بعد حالت اسلام میں پیدا ہونے والے ہر بچہ کے لئے وظیفہ کا حکم جاری فرمایا اور تمام علاقوں میں یہ فرمان نام لکھ کر بھیج دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…