پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

لوگوں کی گاڑیاں دھونے والااچانک عرب پتی کیسے بن گیا، مگر کیسے ، جان کر آپ کا بھی جذبہ بڑھے گا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2016 |

معمولی معاوضے پر لوگوں کی گاڑیاں دھونے والا کینیڈین شہری ارب پتی بن گیا ۔ جم پٹیسن نے انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی ۔ اور گزربسر کے لیے گاڑیاں دھونے کا کام شروع کیا ۔ تاہم وہ محنت مزدوری سے حاصل کردہ رقم کو کفایت شعاری سے خرچ کرتا اور کچھ رقم پس انداز بھی کرتا رہا ۔ تھوڑے عرصے بعد وہ اس قابل ہوگیا کہ اپنے لیے ایک پُرانی کار خرید سکے ۔ کچھ مدت کے بعد اس نے وہ کار فروخت کی تو اچھا منافع ہاتھ آیا ۔ یہی جم پٹیسن کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا ۔ جس کے بعد جم پٹیسن نے گاڑیاں دھونے کے ساتھ ساتھ پُرانی کاروں کی خریدوفروخت کا کاروبار بھی شروع کر دیا خوش قسمتی سے یہ کاروبار دن دُگنی رات چوکنی ترقی کرتا گیا اور اب جم پٹیسن کا شمار کینیڈا کے دس مالدار ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ متحدہ عرب سے شائع ہونے والے اخبار البیان کی رپورٹ کے مطابق غربت سے امارت کا سفر طے کرکے جن لوگوں نے عالمی شہرت حاصل کی ، ان میں کینیڈا سے تعلق رکھنے والے جم پٹیسن کی کہانی دلچسپ بھی ہے اور سبق آموز بھی ۔
IMG_0921-1024x814

جم پٹیسن یکم اکتوبر 1928ء کو کینیڈا کے علاقے لوزی لینڈ ٹاؤن میں پیدا ہوا ۔ اس کا خاندان بہت غریب تھا ،

وہ گزر بسر کے لیے اسکول کی تعلیم کے ساتھ مختلف مزدوریاں کرتا رہا ۔ ابتدا میں اس نے ہوٹل میں برتن دھونے کے علاوہ اخبار بھی فروخت کئے ۔ کچھ عرصے باغبانی بھی کی اور اسکولوں میں بچوں کی چیزیں بھی فروخت کرتا رہا ۔ گھریلو حالات کے باعث جم پٹیسن تعلیم کو سلسلہ جاری نہ رکھ سکا اور ہائی اسکول کے بعد نوعمری میں ہی فل ٹائم محنت مزدوری شروع کر دی ۔ شروع میں وہ پل تعمیر کرنے والی ایک کمپنی میں مزدوری کرتا رہا ۔ بعد ازاں ریلوے پٹری بچھانے والی کمپنی میں بھرتی ہوگیا ۔ کچھ عرصے بعد اسے ایک کار واشنگ اسٹیشن میں کام کرنے کا موقع ملا اور وہ معمولی اجرت پر لوگوں کی گاڑیاں دھونے لگا ۔اس نے محنت مزدوری سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصّہ پس انداز کرنا شروع کر د اور کچھ ہی عرصے بعد ایک پرانی کار خرید لی ، اس گاڑی کو بیچ کر جم نے کچھ منافع کمایا اور پھر کار واشنگ کے ساتھ پرانی گاڑیوں کی خریدوفروخت شروع کر دی ۔ جب مالی حالت کچھ بہتر ہوئی تو تعلیمی سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرکے جان اولیور سیکنڈری اسکول میں داخلہ لے لیا ۔ تاہم جم پٹیسن نے تعلیم کے ساتھ گاڑیوں کا کاروبار جاری رکھا ۔ رفتہ رفتہ اس کا کاروبار اتنا وسیع ہوگیا کہ کہ وہ کینیڈا معروف یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں داخلہ لینے کے باوجود وہاں سے کورس مکمل نہیں کر سکا ۔ جم پٹیسن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں ، اس نے گاڑیوں کے کاروبار سے متعلق بہت سے گر سیکھ لیے تھے ، اس لیے اسے ڈگری کی ضرورت نہیں تھی ۔ 1961ء میں جم پٹیسن نے جنرل موٹرز کی پُرانی گاڑیوں کی خریدوفروخت بھی شروع کر دی ۔

957d35314046387200e90e235f7a0d4a

محنت و دیانتداری کے باعث اس کا کاروبار خوب چمکا اور جلد ہی وہ اہنے شہر میں پُرانی گاڑیوں کا سب سے بڑا ڈیلر بن گیا ۔ جم کے کاروبار کو پھلتا پھولتا دیکھ کر کینیڈا کے ایک بینک نے خود آفر کرکے اسے بھاری قرضہ دیا ۔ جم پٹیسن نے اس رقم سے اسی اسکول کے سامنے ایک بہت بڑا شوروم کھول لیا ، جہاں 15 برس پہلے وہ بچوں کی چیزیں فروخت کرتا تھا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ کاروبار بڑھتا گیا اور اس نے کینیڈا کے مختلف شہروں میں اپنی برانچیں کھول لیں ۔ 10 برس بعد جم پٹیسن کی کمپنی ’’ جم پٹیسن گروپ ‘‘ کینیڈا میں پُرانی کاروں کی خریدوفروخت کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بن گئی ۔ اس کے بعد جم نے اپنے کاروبار کو مزید وسعت دیتے ہوئے سپر مارکیٹ ، روزنامہ اخبار ، اور اشتہارات کا کام بھی شروع کر دیا ۔

26c76e6a0a0d028a0142382084e2c836

پھر مچھلی کی امپورٹ اور ایکسپورٹ اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں بھی ہاتھ اور خوب کمایا ۔ 1986 ء میں جم پٹیسن کی کمپنی نے ایک عالمی نمائش کا اہتمام کیا ، جس میں اسے کینیڈا کی سب سے بڑی کاروبار کمپنی کے مالک کا اعزاز حاصل ہوا ۔ اب جم پیٹسن اولمپک کمیٹی کا رکن بھی ہے ۔ 2010, میں جم پٹیسن کا نام کینیڈا کے سب سے مالدار شخص اور اس کی کمپنی کا نام کینیڈا کی سب سے بڑی کمپنی کے طور پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ۔ جم کمپنی کے اثاثوں کی مالیت 7.88 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے ۔ کچھ عرصے پہلے جم نے ایک برطانوی کمپنی سے گینز ورلڈ ریکارڈ کی کتاب 180 ملین ڈالر میں خریدی تھی ۔ جم پٹیسن گروپ ، ریپلے انٹرٹینمنٹ کارپوریشن کا مالک بھی ہے ، جو گینز ورلڈ ریکارڈز کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے چلا رہی ہے ۔ اس وقت جم پٹیسن کی عمر 88 برس ہے ، مگر اس کا حوصلہ توانا ہے ، وہ اب بھی نوجوانوں کی طرح محنت کرتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…