پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

برصغیر کا وہ مسلمان حکمران جو اپنے وقت میں دنیا کاامیر ترین شخص تھا اس نے اپنی دولت کن کاموں پر خرچ کر دی؟

datetime 18  اکتوبر‬‮  2016 |

ہمارے دور کے اکثر حکمران امیر ضرور ہیں لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ دنیا کے امیر ترین حکمران ہیں لیکن برصغیر پاک و ہند میں ایک ایسا حکمران بھی گزرا ہے جو اپنے دور کا دنیا کا امیر ترین انسان تھا۔اس حکمران کا نام نظام سر میر عثمان علی خان صدیقی بہادر تھا.

l-bathak.com-1430655722

نظام سر میر عثمان علی خان صدیقی کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا۔یہ 6اپریل 1886ءکو پیدا ہوا اور اس کا انتقال

24فروری 1967ءکو ہوا۔یہ 1911ءسے1948ءتک حیدرآباد دکن کا حکمران رہا لیکن بھارت کے قیام کے بعد جب نئے ملک نے جاگیردارانہ نظام اور مقامی ریاستیںختم کیں تو انہیں 26جنوری1950ءکو حیدرآباد ریاست کا راج پر مکھ بنا دیا گیا۔یہ عہدہ ان کے پاس 31اکتوبر 1956ءتک رہا لیکن اس کے بعد ریاست حیدرآباد کو لسانی بنیادوں پر آندھیرا پردیش،کرناٹکا اور مہارشٹرا میں بانٹ دیا گیا اور ان کی رہی سہی سلطنت کا بھی خاتمہ ہوا۔
اپنے عروج کے دنوں یعنی 1940ءسے قبل نظام عثمان علی خان کی دولت کا اندازہ 2ارب ڈالر لگایا گیا تھاجو آج کے 34ارب ڈالر بنتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت متحدہ ہندوستان کاسالانہ ریونیوایک ارب ڈالر تھا جبکہ نظام دکن کی دولت اس وقت کی امریکی معیشت کا دو فیصد تھی۔22فروری1937ءمیں مشہور زمانہ ’ٹائم میگزین‘ نے ایک شمارہ شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ نظام عثمان علی دنیا کی امیر ترین شخصیت ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اپنی موت کے سال 1967ءتک نظام عثمان جنوبی ایشیاءکے امیر ترین انسان تھے۔ان کی دولت کا ذریعہ ریاست حیدرآباد میں وہ ہیرے کی کانیں تھیں جن سے انیسویں صدی میں پوری دنیا کو ہیرے سپلائی کئے جاتے تھے۔ ریاست حیدرآباد برصغیر کی سب سے بڑے ریاست تھی اور اس کا رقبہ دو لاکھ 23ہزا مربع کلومیٹر تھا جو کہ یو کے کے برابر ہے۔نظام عثمان نے دہلی میں حیدرآباد ہاؤس کے نام سے ایک شاندار محل بھی تعمیر کیا تھا اور یہ آج کل حکومت بھارت کے زیر استعمال ہے۔انہوں نے اپنی ریاست میں کئی شاندار کام کئے جن میں بجلی کی رسائی،سڑکیں،ریلوے اور اسی طرح کے کئی ترقیاتی کام شامل ہیں۔نظام نے 1941ءمیں اپنا ایک بینک بھی شروع کیا جس کا نام حیدرآباد سٹیٹ بینک رکھا گیا اورآج کل اس کا نام سٹیٹ بینک آف حیدرآبادہے۔حیدرآباد ہندوستان کی واحد ریاست تھی جہاں نظام نے اپنی کرنسی بھی متعارف کروائی تھی اور اس کانام’عثمانیہ سکہ‘ تھا۔برطانوی دور میں صرف ریاست حیدرآباد کو اجازت تھی کہ اپنا کرنسی نوٹ جاری کرے اور1918ءمیں ریاست نے 100روپے کا نوٹ بھی جاری کیا۔ نظام عثمان کی وصیت کے مطابق انہیں ’جودی مسجد‘ میں دفن کیا گیا اور ان کے انتقال سے ایک عظیم دور اپنے اختتام کو پہنچا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…