پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

حسد کے بجائے دعا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2016 |

حسد کے بجائے دعا
لطیفہ ہے کہ ایک غریب دیہاتی تها-وه معاشی اعتبار سے بہت پریشان رہتا تها-کسی شخص نے اس سے کہا کہ تم اکبر بادشاه کے پاس جاو-اس کے پاس بہت پیسہ ہے اور وه ہر مانگنے والے کو دیتا ہے-وه تم کو بهی ضرور دے گا اور تمہارا معاشی مسئلہ حل هو جائے گا-دیہاتی آدمی نے کہا کہ اکبر بادشاه کو کس نے دیا ہے-بتانے والے نے بتایا کہ خدا نے-دیہاتی نے کہا کہ پهر ہم بهی خدا ہی سے کیوں نہ مانگیں-هم اکبر سے کیوں مانگیں-

اس کے بعد وه ایک روز اپنے گهر سے نکلا اور سنسان جنگل کی طرف چلا گیا-وہاں جا کر اس نے اپنا میلا کپڑا زمین پر بچهایا اور اس پر بیٹهہ کر خدا سے دعا کرنے لگا-اس نے اپنی دیہاتی زبان میں کہا : اے اکبر کو دینے والے، مجهے بهی دیدے-وه اسی طرح دعا کرتا رہا-یہاں تک کہ جب وه فارغ هوا اور اس نے اپنا کپڑا اٹهایا تو اس کے نیچے اشرفیوں کی بهری هوئی تهیلی موجود تهی- یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ ہمارے بڑے بڑے دماغ اور اونچے پڑهے لکهے لوگ اپنے شعور اور کردار کے اعتبار سے اس سطح پر بهی نہیں ہیں جہاں مزکوره دیہاتی آدمی تها-

آج یہ حالت ہے کہ جب بهی کوئی شخص یہ دیکهتا ہے کہ دوسرا آدمی اس سے بڑهہ گیا ہے، خواه یہ بڑهنا مال کے اعتبار سے هو یاحیثیت کے اعتبار سے، تو فورا وه حسد میں مبتلا هو جاتا ہے-اس کے سینے میں بڑهنے والے آدمی کے خلاف نفرت اور جلن کی کبهی نہ ختم هونے والی آگ بهڑک اٹهتی ہے-حسد اور جلن میں مبتلا هونے والے لوگ اگر یہ سمجهیں کہ کسی کو جو کچهہ ملا ہے وه خدا کے دیئے سے ملا ہے، وہی کم بهی دیتا ہے اور وہی زیاده بهی دیتا ہے،تو وه بهی وہی کریں جو مزکوره دیہاتی نے کیا- وه پانے والے انسان کے بجائے دینے والے خدا کی طرف دوڑیں- وه خدا کو پکارتے هوئے کہیں کہ جس طرح تونے میرے بهائی کو دیا ہے اسی طرح تو مجهے بهی دیدے-اگر لوگوں میں یہ مزاج آ جائے تو سماج کی تمام برائیاں اپنے آپ ختم هو جائیں-
کسی کی بڑائی کو دیکهہ کر اپنی کمی کا احساس ابهرنا بذات خود ایک فطری جذبہ ہے- اس جذبہ کا رخ اگر خدا کی طرف هو تو وه صحیح ہے اور اگر اس کا رخ آدمی کی طرف هو تو غلط-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…